حیات قدسی — Page 428
۴۲۸ طرح طریق تبلیغ سے ایک طرف تزکیۂ نفس اور تصفیہ قلب کا فائدہ حاصل ہوتا ہے اور دوسری طرف حقائق و معارف جدیدہ کا نئے سرے سے دروازہ کھلتا ہے۔اور رویاے صالحہ اور مبشرات اور کشوف والہامات کا فیضان جاری ہو جاتا ہے۔نیز شفقت علی خلق اللہ کا بہترین موقع مل جاتا ہے اور طبیعت میں صبر و قتل اور قوت ضبط کا ملکہ پیدا ہو جاتا ہے۔پھر اس بزرگ نے فرمایا کہ چونکہ تبلیغی سلسلہ میں مبلغین کے لئے ملامتوں اور مخالفتوں کا ہونا ایک لا بدی امر ہے۔اس لئے مبلغ وہی ہو سکتا ہے جو خدا تعالیٰ کی راہ میں لوگوں کی ملامتوں اور مخالفتوں کو برداشت کرے اور تبلیغ سے نہ رکے۔اور ہر ممکن طریق سے علم و حکمت اور صبر وتحمل کے ساتھ تبلیغ کا کام کرتا چلا جائے۔جب کوئی شخص بیعت کرنے کے لئے آتا ہے تو میں اس سے پہلے یہی دریافت کرتا ہوں کہ اگر اس نے کبھی کسی سے عشق کیا ہو تو اس کی حکایت اور داستان سنائے۔اور جس نے اس عشق کی راہ میں لوگوں کی مخالفتوں اور ملامتوں کے ذریعہ صبر وتحمل کی مشق کی ہوتی ہے ایسا شخص ہماری تبلیغی مساعی کے لئے بہت مفید ہوتا ہے اور بیعت تو ویسے بھی ہو سکتی ہے لیکن بیعت کے بعد اطاعت کا ہر پہلو۔بطور امتحان ہوتا ہے۔جس سے ساتھ ساتھ پتہ لگتا رہتا ہے کہ بیعت کنندہ کہاں تک اطاعت کا جو اگر دن پر اٹھانے کے لئے تیار ہے۔سو اس وقت میں آپ دونوں عاشقوں میں سے صرف شاہزادی کے عاشق | کی بیعت لوں گا۔جس نے شاہزادی کے عشق میں ہر طرح کی مخالفتیں اور ملامتیں سہہ کر صبر وتحمل کا بہترین نمونہ دکھایا ہے۔امید ہے کہ ایسا مجازی عاشق حقیقی محبوب یعنی اللہ تعالیٰ کی خیر الحجو بین ہستی کی راہ عشق میں بھی تبلیغی جد و جہد کر کے کامل نمونہ عشق و وفا کا دکھائے گا اور دوسرے صاحب جو خام طبع اور عشق کی راہ میں عہدِ وفا کو انجام دینے سے قاصر ہیں۔۔۔اور ملامت ہونے پر اس سلسلہ جدو جہد سے۔۔۔۔۔۔دستبردار ہونے کے لئے تیار ہیں ہمارے کام کے نہیں اور نہ ہی تبلیغی سلسلہ میں ان کی ضرورت ہے۔ہمارے کام وہی آسکتا ہے جو عشق و وفا کی منازل کو حسب فرمان لَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لائِمٍ۔کرنے والا ہو اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہر قسم کی قربانی بخوشی ادا کر دے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی تو فیق عطا فرمائے۔