حیات قدسی

by Other Authors

Page 415 of 688

حیات قدسی — Page 415

۴۱۵ کے ایک حوالہ سے بہت ہی خطرہ محسوس ہوتا کہ فریق مخالف کہیں یہ حوالہ ہمارے خلاف نہ پیش کر دے۔بوجہ اہل حدیث ہونے کے (حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت سے پہلے۔مرتب ) ہم اس مسلمہ اہلحدیث کتاب سے گریز نہ کر سکتے تھے۔اور نہ کوئی معقول اور اطمینان بخش تو جیہہ سمجھ میں آتی تھی۔وہ حوالہ اس مفہوم کا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی نسبت یہ کہنا کہ وہ نہ جو ہر ہے نہ عرض یہ بھی بدعت ہے اور آداب الوہیت کے خلاف ہے۔لیکن حکمت اور فلسفہ کی کتابوں میں مسلمانوں نے بوجہ آداب الوہیت کے یہی نظریہ پیش کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہستی ایسی باتوں سے بالا ہے کہ اس کے متعلق جو ہر یا عرض کی نسبت دی جائے۔کیونکہ نہ وہ جو ہر ہے اور نہ عرض ہے۔اس کی ہستی ان دونوں سے قدوس اور بالا ہے۔سید اسمعیل صاحب کا یہ فرمانا کہ اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ کہنا کہ وہ نہ جو ہر ہے اور نہ عرض بدعت ہے اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ گویا اس کے خلاف صورت درست ہے۔اس حوالہ کو مخالفین اہل حدیث نے کئی دفعہ پیش کیا لیکن اس کا کوئی تسلی بخش جواب ذہن میں نہ آیا۔حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ایک عرصہ کے بعد مجھے ایک کتاب ملی جس کا نام فصل الخطاب تھا۔اور جو حضرت سید محمد غوث صاحب کی تصنیف تھی اور اس میں بہت ہی لطیف حقائق و معارف بیان ہوئے تھے۔جن میں ایک نکتہ معرفت آداب الوہیت کے متعلق بیان کیا گیا تھا۔جس سے حضرت اسمعیل صاحب شہید کے بیان کردہ حوالہ کا جواب تسلی بخش صورت میں ذہن میں آ گیا۔آپ اس کتاب میں تحریر فرماتے ہیں۔کہ بعض معزز ہستیوں کے متعلق جو مثلاً بادشاہ یا حاکم اعلیٰ ہوں اور خاندانی لحاظ سے بھی نجیب الطرفین ہوں۔یہ کہنا کہ وہ بھنگی ، خاکروب یا چمار نہیں۔ان کے واسطے باعث عزت و تکریم نہیں۔گو واقعاتی لحاظ سے یہ درست ہے۔لیکن پھر بھی کسی معزز ترین ہستی کی طرف کسی ذلیل یا کمینہ کو نسبت دینا خواہ وہ نسبت نفی میں ہی ہواس معزز ترین ہستی کی کسر شان کے مترادف ہے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ مجھے اس نکتہ کے مطالعہ سے بہت ہی لطف آیا۔اور اس سے وہ اعتراض جو ایک مدت سے دل میں خلش پیدا کر رہا تھا، حل ہو گیا۔اس نکتہ کی روشنی میں یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ کی قدوس ہستی نہ جو ہر ہے اور نہ عرض۔گو حقیقت نفس الامری کے لحاظ سے درست ہے۔لیکن جو ہر اور عرض کی نسبت اللہ تعالیٰ کی بزرگ ہستی کی طرف ینا گونفی میں ہی ہو مناسب نہیں بلکہ بدعت ہے۔اور یہ ایسی ہی بات ہے کہ کوئی فاتر العقل