حیات قدسی — Page 378
۳۷۸ تر دید“ کے عنوان سے مضمون شائع کیا۔لیکن بعد میں جب میر حامد شاہ صاحب نے بیعت کر لی۔اور یہ خط و کتابت سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے حضور پیش کر دی تو اصل حقیقت ظاہر ہوگئی اور جو بات میں نے بیان کی تھی اسی کی تصدیق ہوگئی۔ایک اہم واقعہ حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت خلافت اہلبیت حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام ، ممبران صدر انجمن احمد یہ اور حاضر الوقت احمدیوں نے متفقہ طور پر کی۔اور اس کو الوصیت“ کی ہدایت کے مطابق قرار دیا۔لیکن کچھ عرصہ بعد شیطان نے بعض لوگوں کو جن کے دلوں میں کبھی تھی۔بہکایا بالخصوص لاہور کے ممبران انجمن نے خلافت کے خلاف ریشہ دوانیاں شروع کر دیں۔اور یہ سوال اٹھایا گیا کہ آیا صدر انجمن احمد یہ خلیفہ کے ماتحت ہے یا خلیفہ انجمن کے ماتحت کا ہے۔اس سوال پر حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جماعت کے با اثر اور چیدہ چیدہ احباب کو مقررہ تاریخ پر مرکز میں جمع ہونے کی دعوت دی۔ان ایام میں خواجہ کمال الدین صاحب نے لاہور کی جماعت کے سب افراد کو ایک جگہ جمع کر کے اور الگ الگ بھی سمجھانے کی کوشش کو کی کہ صدر انجمن احمدیہ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قائم کیا ہے اور خلیفہ کو صدرانجمن نے۔لہذا خلیفہ وقت صدر انجمن کے ماتحت ہونا چاہیئے۔اور خواجہ صاحب نے جملہ افراد جماعت سے اس بات کے حق میں دستخط بھی لئے۔سوائے دو دوستوں کے سب جماعت لاہور نے اس کاغذ پر دستخط کر دیئے۔وہ دو دوست حضرت حکیم محمد حسین صاحب قریشی اور حضرت بھائی غلام محمد صاحب فور میں تھے۔جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے پرانے صحابہ میں سے تھے۔انہوں نے اس موقع پر نہایت ہی عمدہ جواب دیا کہ خلافت کے قائم ہونے کے بعد اور پھر خلیفہ وقت کے ہاتھ پر باقرار اطاعت بیعت کر لینے کے بعد ایسا سوال اٹھا نا بغاوت کا طریق ہے اور اس سے ہر بچے احمدی کو بچنا چاہیئے۔چنانچہ ان دونوں نے دستخط کرنے سے انکار کر دیا تو حضرت میاں چراغ الدین صاحب اور ان کے خاندان نے بھی جو اس سے پہلے دستخط کر چکے تھے، اپنے دستخط واپس لے لئے اور قریشی صاحب اور بھائی غلام محمد صاحب کے قول سے پورے طور پر اتفاق کا اظہار کیا۔اس کے بعد تقریباً مخلصین جماعت نے اپنے اپنے دستخط واپس لے لئے۔اور سوائے خواجہ صاحب کے چند