حیات قدسی — Page 24
۲۴ ب۔بخت جاگے دلاں ستیاندے مہدی پاک جاں وچ جہاں آئے سر تے بند وستار رسول والی ساڈے ستڑے بھاگ جگان آئے ہوئے باغ محمدی فیر تازے مالی خاص جاں وچ بستان آئے دور پر تیا غیر اسلام والا جس وچ آخری شاہ دوران آئے تاج مهدی سب اولیاندے گلے پہن رسولاندی شان آئے قسم رب دی ایہو امام مہدی جیہڑے قادیان وچ سلطان آئے منن بدنصیب نہ اونہاں تائیں غالب جنہاں تے نفس شیطان آئے منن والیاں رب رسول راضی آتے منکراں بہت زیان پائے خلاصہ ترجمہ اشعار پنجابی :۔(۱) یہ دنیا فنا ہونے والا مقام ہے اس سے محبت نہیں لگانی چاہیئے۔(۲) کوچ کا نقارہ ہر وقت بج رہا ہے اس لئے موت کا فکر دل سے فراموش نہ کرنا چاہئیے۔(۳) دنیا کی ہر چیز محض خیال اور مثال ہے اس لئے غفلت میں عمر کو ضائع نہ کرنا چاہیئے۔(۴) خدا تعالیٰ کا ذکر ہی دلوں کے لئے کیمیا ہے اس لئے اس محسن حقیقی کی یاد سے غافل نہ ہونا چاہیئے۔ہوئے۔(۵) سوئے ہوئے لوگوں کے خفتہ بخت بیدار ہو گئے جب مہدی دوران اس جہان میں مبعوث ان میں مہ (۶) آپ نبیوں کا درجہ حاصل کر کے ہمارے سوئے ہوئے نصیبوں کو بیدار کرنے کے لئے آئے ہیں۔ہے۔(۷) امت محمدیہ کا باغ خاص باغباں کی آمد سے تروتازہ ہو گیا ہے۔(۸) اسلام کی تر و تازگی کا دور پھر لوٹ آیا ہے کیونکہ اس میں آخری روحانی بادشاہ کی آمد ہوئی (۹) مهدی دوران تمام اولیائے امت کے سرتاج ہیں اور تمام رسولوں کے لباس میں مبعوث