حیات قدسی

by Other Authors

Page 338 of 688

حیات قدسی — Page 338

۳۳۸ کے پاس جو علم تو ریت یا انجیل کی شکل میں پایا جاتا ہے۔وہ مخصوص الزمان اور مخصوص القوم ہونے کی وجہ سے قلیل اور محدود ہے۔اور عالمگیر اور مستقل ضروریات کو پورا نہیں کرسکتا۔اس لئے قرآن مجید کی کامل اور عالمگیر وحی اور کلام کو اللہ تعالیٰ کے امر سے نازل کیا گیا ہے۔آیت قرآنی کی تشریح موجود زمانہ کے لحاظ سے دور چونکہ يَسْتَلُونَ کا فعل زمانہ حال اور استقبال دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔اس لئے جدید کے محققین جن میں آریہ سماج کے فاضل پنڈت بھی شامل ہیں رُوح کے متعلق جو استفسارات پیش کرتے ہیں ان کا جواب بھی اس آیت میں دیا گیا ہے۔اس اعتبار سے يَسْتَلُونَكَ عَنِ الرُّوح میں روح سے مراد روح انسانی ہے جس کی ماہیت اور گنہ معلوم کرنے کے لئے زمانہ حال کے فلاسفر، سائنسدان اور علم الہیات کے ماہر کوشاں ہیں۔آریہ مت والوں اور اہل اسلام کا روح کے متعلق جو اختلاف پایا جاتا ہے اس کے متعلق قرآن کریم کی اس آیت میں واضح طور پر حقیقت کا انکشاف کیا گیا ہے۔آریہ مت والے روح کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ روح پر میشر کی طرح غیر مخلوق اور ا نا دی ہے یعنی جس طرح پر میشر از لی ہے۔اسی طرح روح بھی ازلی ہے۔لیکن اس کے مقابل پر مسلمانوں کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ اللہ خَالِقُ كُلّ شَى 51 - یعنی اللہ تعالی ہی ہر چیز کو جس میں روح بھی شامل ہے پیدا کرنے والا ہے۔اور پھر الله تعالى هُوَ الْاَوَّلُ وَالآخِرُ ہے یعنی وہی سب سے پہلے تھا اور وہی سب کے بعد بھی رہے گا۔اس کے کے ساتھ روح کو از لی قرار دینا درست نہیں۔اسی طرح حدیث شریف میں آتا ہے کہ كَانَ اللهُ وَلَم يَكُنْ مَعَهُ شَيء 2 یعنی شروع میں صرف خدا ہی تھا اور اس کے ساتھ اور کوئی چیز نہ تھی۔پس مسلمانوں کے عقیدہ کے رُو سے روح قدیم اور ازلی نہیں بلکہ حادث ہے۔اور آریہ مت والوں کے نزدیک روح قدیم اور ا نا دی اور غیر مخلوق ہے۔اس اختلاف میں اصل حقیقت کو آیت زیر بحث میں واضح کیا گیا ہے۔52 روح کا عالم امر سے ہونا (۱) قُلِ الرُّوحُ مِنْ اَمرِ رَبِّی کے فقرہ میں روح کو عالم امر سے قرار دیا گیا ہے۔قرآن کریم کی رُو سے اَلا لَهُ الْخَلْقُ وَالاَمر میں دو طرح کے عالم قرار دیئے گئے ہیں۔ایک عالم خلق اور دوسرا