حیات قدسی — Page 19
۱۹ آخر مولوی صاحب کو بھی خدا تعالیٰ نے حضور اقدس کی کتابوں کے مطالعہ سے ہدایت بخشی اور آپ ۱۸۹۹ء میں میرے ساتھ حضور اقدس علیہ السلام کی دستی بیعت کے لئے قادیان روانہ ہو گئے۔بارگاہ سید ناسیح موعود علیہ السلام اور ایک عجیب نشان جب میں اور مولوی امام الدین صاحب قادیان مقدس پہنچے اور مسجد مبارک پر جانے کے لئے اس کے اندرونی زینہ پر چڑھنے لگے تو میں وہیں کھڑے کھڑے حضورا قدس علیہ السلام کی خدمت میں پیش کرنے کے لئے کچھ نذرانہ کی رقم نکالنے لگ گیا اور مولوی صاحب اتنی دیر میں مسجد کے اوپر بارگاہ نبوت میں جا پہنچے حضور اقدس نے مولوی صاحب کو مصافحہ کا شرف بخشتے ہی فرمایا :۔وہ لڑکا جو آپ کے پیچھے آرہا تھا اس کو بلاؤ۔“ وو چنانچہ مولوی صاحب واپس لوٹے اور زینہ پر آ کر کہنے لگے میاں غلام رسول آپ کو حضرت صاحب یا دفرما رہے ہیں۔میں یہ سنتے ہی حضور کی خدمت عالیہ میں جا پہنچا اور جب مصافحہ اور دیدار مسیح سے مشرف ہوا تو اس وقت مجھ پر کچھ ایسی رقت طاری ہوئی کہ میں بے ساختہ حضور کے قدموں پر گر گیا اور روتے روتے میری ہچکی بندھ گئی۔حضور انور اس وقت نہایت ہی شفقت سے میرے سر اور میری پیٹھ پر دست مسیحائی پھیرتے جاتے تھے اور مجھے دلاسا دیے جاتے تھے۔جب میری طبیعت کچھ سنبھلی تو میں نے اپنے سر نیاز کو حضور کے پائے عالی سے اٹھایا اور مولوی امام الدین صاحب اور بعض دیگر اصحاب کی معیت میں حضور کے دست بیعت سے شادکام ہو ا۔اس دوران میں یہ عجیب واقعہ رونما ہوا کہ حضور اقدس علیہ السلام نے مجھے دیکھے بغیر ہی اور مولوی امام الدین صاحب سے بے پوچھے ہی یہ ارشاد فرما دیا کہ مولوی صاحب وہ لڑکا جو آپ کے پیچھے آرہا تھا اس کو بلا ؤ۔یقیناً یہ بات حضور اقدس علیہ السلام کے متعلق لانه يرى بنور اللہ کی ایک دلیل ہے اور میرے لئے ایک نشان ہے۔الحمد لله الذي شرفني بلقائه و نوره - قادیان مقدس سے واپسی میں جب ۱۸۹۹ء میں حضور اقدس علیہ السلام کی دستی بیعت سے مشرف ہو کر مولوی امام الدین