حیات قدسی

by Other Authors

Page 318 of 688

حیات قدسی — Page 318

۳۱۸ حضرت سیٹھ حاجی عبدالرحمن صاحب مدراسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمارا وفد بمبئی سے روانہ ہو کر مدراس میں وارد ہوا۔وہاں پر حضرت سیٹھ حاجی عبد الرحمن اللہ رکھا صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاں قیام کیا۔حضرت سیٹھ صاحب کے متعلق حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہوا تھا کہ قادر ہے وہ بارگاہ ٹوٹا کام بنا دے بنا بنایا تو ڑ دے کوئی اس کا بھید نہ پاوے 20 چنانچہ اس الہام کے پہلے مصرعہ کے مطابق ان کا کاروبار خوب چکا۔لیکن بعد میں دوسرے مصرعہ کے مطابق ان پر ابتلاء آیا۔اور فارغ البالی کے بعد آپ انتہائی مالی مشکلات کا شکار ہوئے اور آپ کی حالت بالکل فقیرا نہ ہو گئی۔ان کی یہ ابتلائی حالت کسی معصیت کی وجہ سے نہ تھی بلکہ یہ ایک سر الہی تھا۔جس کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔جب ہم حضرت سیٹھ صاحب کے پاس پہنچے تو آپ ایک خراب اور خستہ چوبارے میں ایک دریدہ چٹائی پر تشریف فرما تھے۔لباس بھی بالکل فقیرانہ تھا۔ہمیں دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔کھانا منگوایا۔جو بالکل سادہ تھا۔چپاتیاں اور مسور کی دال۔اس وقت آپ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا بیان کردہ ایک واقعہ حضرت امام ابو حنیفہ کے متعلق سنایا کہ ایک دفعہ ان کے گماشتے جو بیرونی علاقہ جات میں تجارتی کاروبار کے لئے ان کی طرف سے گئے ہوئے تھے واپس آئے۔تو ان میں سے ایک نے کہا کہ اس دفعہ تجارت میں اتنے ہزار روپیہ کا نفع ہوا ہے۔اس پر حضرت امام صاحب نے ایک دو منٹ کے سکوت کے بعد اونچی آواز سے الحمد للہ کہا۔پھر دوسرے کارندہ نے جو کسی دوسرے علاقہ سے واپس آیا تھا اطلاع دی۔کہ اس دفعہ اتنے ہزار روپیہ کا نقصان ہوا ہے۔یہ سن کر بھی حضرت امام صاحب نے تھوڑے سے توقف کے بعد اونچی آواز سے الحمد لله کہا۔اس وقت حاضرین میں سے ایک شخص نے امام صاحب کی خدمت میں عرض کیا کہ نفع کی خبر سن کر تو بے شک اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیئے۔لیکن نقصان کی خبر پر الحمد للہ کہنا درست معلوم نہیں ہوتا۔اس موقع پر تو اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ کہنا چاہیئے تھا۔اس پر حضرت امام صاحب نے فرمایا