حیات قدسی — Page 307
۳۰۷ کے متبعین کے متعلق ثابت کر دوں۔تو انبیاء کے متعلق بدرجہ اولیٰ یہ فضیلت ثابت ہو جائے گی۔کسی تابع کو جو کمال حاصل ہوتا ہے وہ نبی متبوع کی فضیلت اور کمال کی وجہ سے ہی ہو سکتا ہے۔قرآن کریم کی سورہ مجادلہ میں حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والوں کے متعلق لکھا ہوا ہے کہ أُولَئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيْمَانَ وَأَيَّدَهُمُ بِرُوحٍ مِنْه ٥ - یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو جو غیر نبی تھے روح القدس سے بڑھ کر رُوح من اللہ کی تائید حاصل تھی۔پس جو فضیلت پادری صاحب کے نزدیک مسیح کے لئے مخصوص تھی ، اس سے بڑھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والوں کے متعلق ثابت ہے۔تیسری خصوصیت اور اس کا جواب تیسرے پادری صاحب نے غُلَامًا زَكِيًّا کے الفاظ کو وجہ فضیلت قرار دیا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام کا ذکر جہاں بھی قرآن کریم میں کیا گیا ہے وہ یہود اور نصاری کی طرف سے بے جاندمت اور بے جا غلو کی تردید اور ذب کے طور پر ہے۔ان فضائل مخصوصہ کا ذکر دوسرے انبیاء کے متعلق اس لئے نہیں کیا گیا کہ ان کے متعلق اس قسم کے الزامات نہ تھے اور نہ ان کی تردید کی ضرورت تھی چونکہ یہود عَلى مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيمًا 7 کے رُو سے حضرت مسیح کی پیدائش کے متعلق الزام عاید کرتے تھے اور اس الزام کی تردید ضروری تھی اس لئے آپ کو غلام زکی کہا گیا۔ورنہ ہر نبی بچپن میں ذکی اور پاک ہوتا ہے۔(۲) ان الفاظ سے صرف مسیح کی پاکیزگی کا اظہار ہوتا ہے لیکن ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت قرآن کریم میں مختلف مقامات پر يُزَكّيهِمْ کے الفاظ آتے ہیں یعنی نہ صرف یہ کہ وہ خود ذ کی اور پاک تھے۔بلکہ مندگی تھے یعنی آپ کی صحبت اور قوت قدسیہ سے لوگ ذکی بنتے تھے۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بوجہ مری ہونے کے مسیح سے بدرجہا افضل ثابت ہوتے ہیں۔چوتھی خصوصیت اور اس کا جواب مسیح علیہ السلام کے متعلق چوتھی وجہ فضیلت پادری صاحب نے یہ پیش کی ہے کہ ان کی والدہ کا نام قرآن کریم میں مذکور ہوا ہے۔پادری صاحب اس بات کا ثبوت دیں کہ قرآن کریم میں کسی کا نام