حیات قدسی

by Other Authors

Page 297 of 688

حیات قدسی — Page 297

۲۹۷ ہی یہ رقعہ ان کے سامنے پھینکا اور کہنے لگے کہ ہمیں بالکل علم نہ تھا کہ آپ مرزائی ہو چکے ہیں۔ورنہ ہم آپ کے گھر کا پانی پینا بھی گوارا نہ کرتے۔آخر یہ کیا ماجرا ہے اور کب سے آپ نے مرزائیت اختیار ہے۔میں نے ہنس کر کہا کہ ان کے مرزائی ہونے کا وہی وقت ہے۔جب انہوں نے یہ رقعہ لکھا تھا۔پھر میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے کیسے سمجھا کہ یہ مرزائی ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس رقعہ پر ان کے نام کے ساتھ احمدی لکھا ہوا ہے اور احمدی“ کہتے ہی مرزائیوں کے کو ہیں۔میں نے کہا۔آپ شاید غلط سمجھے ہیں۔امام صاحب نے تو احمدی‘ اہلسنت والجماعت کے معنوں میں لکھا ہے۔وہ کہنے لگے کہ اس بات کو کون نہیں جانتا کہ احمدی ( حضرت ) مرزا غلام احمد صاحب قادیانی (علیہ السلام) کو ماننے والے کہلاتے ہیں۔اس کے بعد میں نے امام مسجد صاحب کی طرف متوجہ ہو کر کہا کہ فرمائیے ! اب آپ کی سمجھ میں آگیا۔کہ احمدی ، کس کا نام ہے وہ خفیف ہو کر کہنے لگے کہ آپ لوگ بہت ہوشیار ہیں۔آپ تو ہو میرے گھر میں فتنہ و تفرقہ ڈالنے لگے تھے۔اس پر حاضرین مجلس نے امام صاحب کو کہا کہ اس میں ان کو کا کوئی قصور نہیں آپ نے خود ہی غلط خیال کے ماتحت غلط قدم اٹھایا تھا اور اس کی سب ذمہ داری آپ پر ہے۔درود شریف کا اثر سید نا حضرت خلیفہ المسح اول رضی اللہ تعالی عنہ وارضاہ نے ایک دن مجھے یادفرمایا اورتصوف کی كتاب كتاب التعرف في علم التصوّف “ دے کر فرمایا کہ آپ کا عربی خط اچھا ہے۔یہ کتاب غیر مطبوعہ ہے۔اور اس کا ایک ہی نسخہ ہمارے پاس ہے جو کرم خوردہ ہے۔اور اس کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔آپ اس کو خوشخط نقل کر دیں۔اللہ تعالیٰ آپ کا دین ودنیا میں بھلا کر دے گا۔میں نے حسب ارشاد اس کارِ ثواب کو کرنا شروع کر دیا۔اور ۱۲ بجے سکول سے فارغ ہو کر بقیہ سب وقت کتابت میں صرف کرتا۔ان دنوں میری قیام گاہ حضرت نواب محمد علی خان صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شہر والے مکان کے ایک کمرہ میں تھی۔برابر کے کمرہ کے برآمدہ میں دو جنگلی کبوتروں نے انڈے دیئے ہوئے تھے۔ایک دن خاکروب نے مکان کی صفائی کرتے ہوئے گھونسلے کو توڑ پھوڑ دیا۔اور