حیات قدسی

by Other Authors

Page 286 of 688

حیات قدسی — Page 286

۲۸۶ بادشاہوں کو غرض پردہ سے کیا ! ہم نے کھینچی آپ ہی دیوار ہے! خدا تعالیٰ کی محبوب ہستی کو پردے کی کیا ضرورت ہے۔اس کا حسن اور احساں تو ہر سالک راہ کی و آنکھوں کے سامنے جلوہ نما ہونے کے لئے تیار ہے۔ہاں اس نظارہ کے لئے محبت کا قومی جذبہ چاہیئے۔جو نفسانیت کے خس و خاشاک کو جلا کر خاک سیاہ کر دے۔اور سفلی زندگی پر ایک موت وارد کر دے تا کہ انسان خدا تعالیٰ کی راہ میں ہر تلخی کو شیریں، ہر زہر کو تریاق اور ہر موت کو عین حیات یقین کرے۔یہی وہ مقدس مقام ہے جو تمام سالکوں کا حقیقی مقصود ہے۔عشق است که در آتش سوزان به نشاند عشق است که برخاک مذلت غلطاند کس بہر کسے سرند ہر جاں نہ فشاند عشق است که این کار بصد صدق کناند حافظ آبادی سید نا حضرت المصلح الموعود ایدہ اللہ الودود کی خلافت کے ابتدائی دنوں میں خاکسار نے کی کشف میں دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس کتاب مواهب الرحمن ہے جس میں جماعت کے بعض افراد کے نام درج ہیں۔ایک جگہ پر میں نے اپنا نام بھی لکھا ہوا دیکھا۔وہاں پر میرا نام اس طرح ہے۔”مولوی غلام رسول حافظ آبادی ، مجھے اپنے نام کے ساتھ حافظ آبادی پڑھ کر تعجب ہوا۔کیونکہ میرے گاؤں کا نام تو را جیکی ہے۔نہ کہ حافظ آباد۔حافظ آبادی کی تعبیر بعد میں یہ کھلی کہ سیدنا حضرت المصلح الموعود کے دور خلافت میں جب بھی کسی جماعت میں اصلاحی اور تربیتی ضرورت پیش آتی تو اس خاکسار کو عموماً اس جماعت میں بھجوایا جاتا۔اس طرح خدا تعالیٰ نے جماعت کی تربیتی خدمت کا لمبے عرصہ تک موقع عطا فرمایا۔خلافت ثانیہ کے ابتدائی سالوں میں ایک لمبے عرصہ تک مجھے لاہور میں ٹھہر کر جو غیر مبائعین کا مرکز ہے خدمت سلسلہ کا موقع ملا۔یہ کام بھی جس کی توفیق بفضلہ تعالیٰ سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی زیر ہدایت مجھے ملی جماعت کی اندرونی حفاظت کا ہی تھا۔