حیات قدسی

by Other Authors

Page 281 of 688

حیات قدسی — Page 281

۲۸۱ اتفاق سے کوئی قلی نہ مل سکا۔میں نے پلیٹ فارم پر اتر کر دریافت کیا کہ حافظ آباد جانے والی گاڑی کب روانہ ہو گی۔ایک شخص نے بتایا کہ وہ گاڑی سامنے کے پلیٹ فارم پر تیار کھڑی ہے اور روانہ ہونے والی ہے۔میں اپنا سامان خود ہی اٹھا کر افتاں و خیزاں پلیٹ فارم کی سیڑھیوں پر چڑھا۔ابھی دوسرے پلیٹ فارم پر نیچے اترا ہی تھا کہ گاڑی چل پڑی۔میں اس کام کی اہمیت کے پیش نظر دوڑتا ہے ہوا اور دعا کرتا ہوا گارڈ کے ڈبے تک جا پہنچا اور بڑے الحاح سے اسے کہا کہ مجھے بہت ضروری کام ہے گاڑی ذرا روکیں یا آہستہ کریں تاکہ میں سوار ہو جاؤں۔میں اسی طرح گاڑی کے ساتھ ساتھ دوڑتا جاتا تھا۔اور اللہ تعالیٰ سے بڑے تضرع سے دعا کر رہا تھا کہ پلیٹ فارم ختم ہو گیا۔اور گاڑی بھی زیادہ تیز ہو گئی۔میں سخت مایوس اور رنجیدہ ہوا۔یہ کام سلسلہ کا تھا۔مجھ سے جہاں تک ہو سکا میں نے کوشش کی۔اور نہایت عاجزی سے اللہ تعالیٰ کے حضور بھی عرض کرتا رہا لیکن اس نے میری التجا کو نہ سنا اور میری دعا کو جو نہایت اہم مقصد کے لئے تھی منظور نہ فرمایا۔اب میں کیا کرتا۔۔۔مجھے سخت درد اور دکھ محسوس ہور ہا تھا۔اسی حالت میں میں پلیٹ فارم پر بیٹھ گیا۔ایک شخص نے مجھے اس طرح دیکھ کر افسوس کا اظہار کیا۔اور کہا کہ آپ کو کہاں جانا تھا افسوس ہے کہ آپ گاڑی سے رہ گئے۔میں نے کہا کہ مجھے ایک نہایت ضروری کام کے لئے حافظ آباد پہنچنا تھا۔اس نے کہا کہ حافظ آباد کی گاڑی تو وہ سامنے کھڑی ہے اور چند منٹ میں روانہ ہوگی۔یہ گاڑی تو لاہور جا رہی ہے۔جونہی میں نے یہ بات سنی۔میرے شکوہ و شکایت کے خیالات جذبات تشکر سے بدل گئے۔میں نے حافظ آباد جانے والی گاڑی میں سوار ہوکر خدا تعالیٰ کے حضور سجدۂ شکر ادا کیا کہ کس طرح اس نے میری دعا کو جو میرے لئے بہت ہی نقصان دہ تھی۔اور جس کے قبول ہونے کے لئے میں تضرع سے درخواست کر رہا تھا، رد کر کے مجھے تکلیف اور نقصان سے بچالیا۔اگر میری دعا قبول ہو جاتی۔اور میں اس گاڑی میں سوار ہو جاتا جو میں غلطی سے حافظ آباد جانے والی سمجھ رہا تھا اور جو دراصل لاہور جانے والی تھی تو میں بر وقت حافظ آباد نہ پہنچ سکتا اور نقصان اٹھاتا۔اس واقعہ سے مجھے اللہ تعالیٰ نے سمجھایا کہ دعاؤں کے رد ہونے میں بعض دفعہ اللہ تعالیٰ کی خاص مصلحتیں کارفرما ہوتی ہیں جو سراسر انسان کے فائدہ کے لئے ہوتی ہیں جن کو انسان اپنے ناقص علم کی