حیات قدسی — Page 271
اتارنے کا باعث بنے۔لیکن میں خوب جانتا ہوں کہ اس احسان اور حسن سلوک کے پیچھے میرے محسن عظیم حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خاص دعا ئیں جو الہی منشاء کے ماتحت حضور نے اس عبد حقیر کی رستگاری کے لئے کیں ، کارفرما تھیں اور وہی دعائیں اللہ تعالیٰ۔ہاں از لی وابدی احسان کے سرچشمہ کے فضل و کرم کو کھینچنے کا باعث بنیں۔ہاں میں اس مہربان دوست کا بھی ممنونِ احسان ہوں کہ وہ اس مشکل کشائی کا ذریعہ بنے۔اور سب سے بڑھ کر میں یہ کہتا ہوں الحمد لله اولاً وآخرا و ظاهرا وباطناً وَالصلواة والسلام على نبيه محمد المصطفی و مسیحه احمد المجتبى و آلهما واتباعهما اجمعين۔آمین کرشمہ قدرت جن دنوں خاکسار لاہور میں مقیم تھا۔میاں فیروز الدین صاحب احمدی (جو لاہور میں گلٹ سازی کا کام کرتے تھے ) سخت پریشانیوں میں مبتلا ہو گئے۔اس پریشانی کی حالت میں ان کی ہمشیرہ، فضل النساء بیگم صاحبہ اہلیہ میاں نظام الدین صاحب کو خواب میں بتلایا گیا کہ میاں فیروز الدین اگر مولوی غلام رسول صاحب را جیکی سے دعا کرائے تو اس کے جملہ مصائب خدا تعالیٰ کے فضل سے دور ہو جائیں گے۔اس خواب کی بنا پر فضل النساء صاحبہ نے اپنے بھائی کو کہا کہ وہ مجھ سے دعا کرائیں۔چنانچہ میاں فیروز الدین صاحب نے مجھے دعا کے لئے تحریک کی۔میں نے وعدہ کیا کہ جب دعا کا کوئی خاص موقع اللہ تعالیٰ کی طرف سے میسر آئے گا۔تو میں انشاء اللہ دعا کروں گا۔اس کے بعد وہ متواتر مجھے دعا کے لئے کہتے رہے۔میاں فیروز الدین صاحب کے واسطے ایک دفعہ مجھے دعا کی خاص تحریک ہوئی۔اور میں نے ان سے دریافت کیا کہ آپ کو کونسی ضروریات ہیں جن کے پورا ہونے کے لئے آپ دعا کرانا چاہتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایک تو ان کی بیوی بعارضہ جنون بیمار ہے اس کی شفایابی کے لئے۔دوسرے مالی پریشانی سے نجات حاصل ہونے کے لئے۔تیسرے اولا دنرینہ کے لئے۔میں نے ان کے تینوں مقاصد کے لئے دعا کا خاص موقع ملنے پر دعا کی اور قلبی تحریک کی بنا پر ان