حیات قدسی — Page 252
۲۵۲ صدی ہجری میں موجود پاتا ہوں۔اس میں تمام دنیا مجھے کف دست ( ہاتھ کی ہتھیلی ) کی طرح سامنے نظر آتی ہے اس وقت تمام روئے زمین پر مجھے احمدی بادشاہ اور حکومتیں دکھائی دیتی ہیں۔میری یہ رویا اخبار بدر میں بھی شائع ہو چکی ہے۔فالحمد للہ علی ذالک درویشان قادیان کلام قدسی (۱۹۵۰ء) زہے قسمت کہ دنیا میں فدائے قادیان تم ہو ہو مسیحائے محمد کے نشانوں میں نشاں تم ہو تمہاری شان درویشی پہ قرباں تاجداری ہے کہ محبوب خدا کے آستاں کے پاسباں تم ہو خدا رکھے تمہیں رہتے جہاں تک خرم و شاداں کہ اب دارالامان میں یادگار عاشقاں تم ہو یہی کہتا ہے روز و شب ہمارا درد مهجوری کہ کاش ہم بھی وہاں ہوتے جہاں پر شادماں تم ہو وَإِنَّ الوَصْل لِلعَشَّاقِ رَاحَتُهم وفَرْحَتُهم خوش بختیکہ اس نعمت سے شاد و کامراں تم ہو نہ چھوڑا آستانِ دلربا کو ان حوادث میں جری اللہ کی جرات کا ایک تازہ نشاں تم ہو تمارے دم سے وابستہ ہے رونق اس گلستاں کی زمیں پر ضوفشاں تم ہو فلک پر کہکشاں تم ہو نہیں سمجھے تو آخر ایک دن دنیا یہ سمجھے گی! کہ ایک قطرہ نہیں ہو بلکہ بحر بیکراں تم ہو