حیات قدسی — Page 243
۲۴۳ خیر الرسل کے اعضا دہلی اور شملہ کی جماعت تقسیم ملک سے پہلے اپنا سالانہ جلسہ با قاعدگی کے ساتھ کیا کرتی تھی۔اس میں علاوہ دوسرے علماء ومبلغین سلسلہ کے خاکسار کو بھی بار ہا شامل ہونے اور تقاریر کرنے کا موقع ملا۔ایک دفعہ ایک ایسی ہی تقریب پر میں حضرت عبدالرحیم صاحب نیر رضی اللہ عنہ اور عزیز مکرم مولوی ابوالعطاء اللہ دتہ صاحب جالندہری کی معیت میں دہلی گیا۔ایک دن ہم حضرت نظام الدین صاحب کے مزار کی زیارت کے لئے گئے اس کے سجادہ نشین جناب خواجہ حسن نظامی صاحب سے بھی ملاقات ہوئی۔دوران گفتگو میں نظام صاحب حیدر آباد کے متعلق بات چل پڑی۔تو خواجہ صاحب نے بتایا کہ ہم لوگ تو پہلے ہی حضرت علیؓ کی اولاد میں سے ہونے کی وجہ سے آدھے شیعہ ہیں اور کم از کم تفضیلی شیعہ تو ضرور ہوتے ہیں۔لیکن اب معلوم ہوا ہے کہ نظام دکن نے بھی تفضیلیہ قسم کی شیعیت اختیار کر لی ہے۔یعنی وہ اگر چہ اصحاب ثلث کی خلافت کو بھی مانتے ہیں لیکن حضرت علی کو سب صحابہ سے افضل سمجھتے ہیں جب فضیلت کی بات چلی تو میں نے خواجہ حسن نظامی صاحب سے کہا کہ میں بھی کچھ عرض کر سکتا ہے ہوں۔انہوں نے کہا شوق سے فرمائیے۔اس پر میں نے عرض کیا کہ تفضیل کے لحاظ سے جو کچھ ہمارے سید و مولیٰ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے اپنی کتاب سر الخلافہ میں تحریر فرمایا ہے وہ بہت ہی موزوں اور قابل قدر ہے۔حضور علیہ السلام صحابہ کرام کی شان میں فرماتے ہیں ؎ قَوْمٌ كِرَامٌ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَهُمُ كَانُوا خَيْرِ الرُّسُلِ كَالأَعْضَاءِ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سب کے سب ہی بزرگ اور قابل عزت و احترام تھے۔جن کے درمیان فرق کرنا ہمارا کام نہیں۔کیوں کہ وہ سب کے سب ہی حضرت خیر الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کے لئے اعضاء کی مانند تھے۔چونکہ آنحضرت کے مظہر اور مقدس وجود کے کسی حصہ یا عضو کو بھی ادنیٰ نہیں کہا جا سکتا۔اس لئے یہ سب اعضاء ہی یعنی تمام صحابہ ہی اعلیٰ اور اطہر ہیں۔جب میں نے یہ شعر پڑھ کر سنایا تو خواجہ صاحب بہت ہی مسرور ہوئے اور ان پر وجدانی کیفیت طاری ہو گئی اور کہنے لگے کہ اس شعر میں صحابہ کرام کی جو فضیلت اور شان بیان کی گئی ہے اس سے بڑھ کر ممکن نہیں۔پھر فرمانے لگے کہ یہ بہت ہی عجیب مدحیہ کلام کس کا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میں تو شعر