حیات قدسی — Page 237
۲۳۷ نہیں کر سکتے۔اور عقائد، اعمال، اخلاق، حقوق اللہ و حقوق العباد یا تعظیم لامر الله وشفقت على خلق الله کے متعلق اسلام کی تعلیم سب پر فائق ہے تو لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے انہوں نے سوائے اس کے اور کوئی ذریعہ نہ سمجھا کہ مذہبی محاسن اور خوبیوں کے بیان کو چھوڑ کر ذاتیات پر اتر آئیں اور اسلام اور اہل اسلام اور خدائے اسلام اور پیغمبر اسلام پر گند اچھالنا اور ان کو گالیاں دینا اور سب وشتم کرنا شروع کر دیا۔ان گالیوں اور اعتراضات کی بوچھاڑ کرنے سے ان کی غرض یہ بھی ہوتی ہے کہ مسلمان ان اعتراضات اور بدزبانی کے جواب دینے میں الجھ جائیں۔اور اسلامی محاسن کو پورے طور پر پیش نہ کرسکیں اور نہ ہی دوسرے مذاہب کے نقائص اور عیوب کو اجا گر کر سکیں۔ان اعتراضات کا موقع بہت حد تک غیر احمدی ملانوں نے دیا۔جن کے عقاید اور اعمال ہر طرح سے بگڑ چکے ہیں۔ان پادریوں پنڈتوں اور غیر مسلموں کو دیکھ کر اور ان کے بداثر سے متاثر ہو کر غیر احمدیوں نے بھی مناظروں میں بجائے قرآن او را حادیث اور عقل ونقل کے دلائل و براہین پیش کرنے کے ہمارے پیشوا سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے مقدس خلفاء پر ذاتی حملے اور ان کے خلاف گالی گلوچ کا طریق اختیار کر لیا اور اسی طرح غیر مبائعین نے بھی حضرت سید نا محمود ایده الودود اور مبائع بزرگوں کے خلاف گندا چھالنا شروع کر دیا۔اب ایک احمدی بالخصوص احمدی مناظر کے لئے یہ بات کس قدر تکلیف دہ اور رنج آلود ہے کہ ان کو مجبوراًیہ بے ہودہ بکو اس سنی پڑتی ہے۔اور آیت وَإِذَا رَأَيْتَ الَّذِينَ يَخُوضُونَ فِي ايتِنَا فَاعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ ، وَ إِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطَنُ فَلَا تَقْعُدُ بَعْدَ الذِّكْرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّلِمِینَ کے وعید کے ماتحت نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے بھی جب دیکھا کہ اس زمانہ میں غیر احمدیوں اور ا غیر مسلموں کی روش مناظروں میں تمسخر آمیز اور شرارت آلود ہے اور ان کا مقصد بالعموم سوائے بد کلامی اور سب و شتم کے اور کچھ نہیں تو ایک عرصہ کے بعد آپ نے اپنی کتاب انجام آتھم میں یہ عہد کیا کہ آپ آئندہ ایسے مناظرات سے کنارہ کش رہیں گے اور حضور اقدس کا یہ عہد اسی آیت شریفہ کے حکم کے مطابق ہے جو او پر تحریر کی جاچکی ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بھی بامر مجبوری و مصلحت