حیات قدسی — Page 230
۲۳۰ اللہ تعالیٰ نے موخر فقرے میں یہ نہیں فرمایا کہ وجعل لكم الاذن والعين والقلب بلکہ جعل لكم السمع والبصر والافئدة فرمایا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ سمع یعنی سننے کا عمل اور بصر یعنی 1 دیکھنے کا فعل اور فواد یعنی سمجھنے کا فعل ماں کے پیٹ سے نکلنے کے بعد بچہ کو میسر آتا ہے نہ کہ ماں کے پیٹ کے اندر لعلکم تشکرون کے فقرے سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے کیونکہ شکر اور قدردانی کی نعمت تو اسی بات پر موقوف ہو سکتی ہے کہ شکم مادر سے نکلنے کے بعد بچہ کے سننے دیکھنے اور سمجھنے کے ذریعہ سے اسے ان نعمتوں کے شکر کا موقع ملے ورنہ خالی ظرف کے طور پر اذن ہولیکن اس میں سماعت نہ ہو۔عین یعنی آنکھ ہو لیکن اس میں بصارت نہ ہو۔قلب ہو لیکن اس میں ذہانت اور احساس نہ ہو۔تو یہ کون سا شکر کا محل ہے میری اس تشریح پر علمی طبقہ کے سب لوگ جو مجلس مناظرہ میں موجود تھے کہنے لگے کہ مولوی ابراہیم صاحب نے مقدم و موخر کی مثال ایسی پیش کی۔کہ ہم نے سمجھا کہ اس کا جواب غلام رسول را جیکی سے نہ بن آئے گا۔لیکن انہوں نے اس آیت میں اس کا جواب نکال کر لوگوں کو حیران کر دیا۔علاوہ اس جواب کے میں نے تقدیم کے متعلق تردید ایہ امر بھی پیش کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں جو تر تیب قائم فرمائی ہے اس ترتیب الفاظ میں ایک ایسا اعجازی نظام پیش فرمایا ہے کہ کوئی شخص ان الفاظ کی ترتیب کو بدلنا چاہے تو اس سے معنوی ترتیب میں اختلال اور بگاڑ واقع ہو جاتا ہے اور فطرت اس الارم سے متنبہ ہو جاتی ہے۔مثلاً اسی فقرہ میں متوفیک کواگر رافعک کے بعد رکھا جائے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ وعدہ تطھیر اور غلبہ متبعین سے پہلے وفات کا ہونا ضروری ہے لیکن تطہیر کا وعدہ تو پورا ہو چکا۔اگر متوفیک کو مطھرک کے بعد رکھا جائے تو اس کا یہ مطلب ہو گا کہ ابھی غلبہ متبعین نہیں ہوا حالانکہ نصاریٰ کو یہود پر بالبداہت غلبہ حاصل ہو چکا ہے اگر متوفیک کے لفظ کو وجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ کے بعد رکھا جائے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ غلبہ متبعین کی بشارت اور وعدہ جو قیامت تک ہے اس وقت تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات نہ ہوگی بلکہ وہ قیامت تک زندہ رہیں گے۔اب یہ عجیب بات ہے کہ قیامت تک تو حضرت عیسی کی وفات نہ ہوگی اور قیامت قائم ہونے پر جب سب لوگوں کا حشر و نشر ہوگا تو عیسی کے متعلق وعدہ توفی پورا ہوگا یہ سب خرابی ترتیب الفاظ کی تقدیم وتاخیر سے واقع ہوتی