حیات قدسی — Page 181
۱۸۱ موضع سعد اللہ پور میں مسماۃ اللہ جوائی مستری جمال دین لوہار کی لڑکی ہے۔جس کا نکاح اس کے ماموں امام الدین صاحب کے لڑکے کے ساتھ کئی سال پیشتر ہوا تھا۔بوجہ بے اتفاقی اور نا چاقی کے وہ لڑکی اب طلاق چاہتی ہے اور آج کل قادیان میں مقیم ہے۔اس کی طلاق کے لئے کوشش کی جائے تا کہ تنازعہ ختم ہو۔خاکسار بغرض تعمیل ارشاد سعد اللہ پور پہنچا اور وہاں کے معزز احمدیوں کو حضرت اقدس ایده اللہ تعالیٰ کے ارشاد سے اطلاع دے کر ان سے تعاون چاہا۔چنانچہ وہ میاں امام الدین صاحب سے ملے اور ان کو سمجھایا لیکن میاں امام الدین صاحب کسی طرح بھی راضی نہ ہوئے۔اس کے بعد میں خود بعض احباب کی معیت میں امام الدین صاحب کے پاس گیا۔اور ان کو تفصیلاً سمجھایا کہ جب لڑکی کا لڑکے کے پاس رہنا اور بسنا محال ہے تو طلاق دے کر تنازعہ کی صورت ختم کی جائے۔اس پر میاں امام الدین صاحب نے کہا کہ ایک دفعہ بھی اور ہزار دفعہ بھی میرا یہی جواب ہے کہ طلاق قطعاً اور کسی صورت میں بھی نہیں دی جائے گی۔میں نے ان کو ہر طرح سمجھانے کی کوشش کی اور حضرت اقدس ایدہ اللہ کے ارشاد کی تعمیل سے روگردانی کے بڑے نتائج سے آگاہ کیا اور صاف الفاظ میں کہدیا کہ اگر آپ کو اپنی ضد اور نافرمانی کی وجہ سے کوئی نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری آپ پر ہوگی۔نافرمانی کی پاداش چنانچہ میں وہاں سے رخصت ہو کر قصبہ شادیوال کے جلسہ میں شمولیت کے لئے روانہ ہوا۔جب ہم سعد اللہ پور سے چار پانچ کوس کے فاصلہ پر موضع جتو کی اور سڈو کی کے قریب پہنچے تو ہمیں پیچھے سے کسی کی چیخوں کی آواز سنائی دی اور یہ الفاظ کان میں پڑے ” میں جل گیا۔میں دوزخ کی آگ میں جل گیا۔مجھے اللہ کے لئے معاف کر دو مجھے دوزخ کی آگ سے نجات دلاؤ۔یہ چیخ و پکار کرنے والا شخص جب زیادہ قریب ہوا تو ہمیں معلوم ہوا کہ وہ میاں امام الدین صاحب سعد اللہ پور والے ہیں۔انہوں نے آتے ہی اپنی پگڑی اتار کر میرے پاؤں پر پھینکی اور بے تحا شا روتے چلاتے اور آہ وزاری کرتے چلے گئے۔اس وقت ہم پانچ چھ افراد تھے جو شا د یوال جلسہ پر جارہے تھے۔میں نے پوچھا آپ کو کیا ہوا تو انہوں نے روتے ہوئے کہا کہ میری تو بہ ! میری توبہ! آپ ابھی !