حیات قدسی

by Other Authors

Page 180 of 688

حیات قدسی — Page 180

۱۸۰ ایسی دعا غایت درجہ مؤثر ثابت ہوتی ہے اور اگر دعا کے وقت نفسانیت اور ہواء نفس کا پردہ درمیان میں آجائے تو پھر ضروری نہیں کہ اللہ تعالیٰ ایسی دعا کو قبولیت کا شرف بخشے۔بجز اس کے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی دعا کو اس کی سمجھ کے مطابق اس کے لئے اتمام حجت کا ذریعہ بنانا ہو۔قبول ہونے والی دعا ایک روحانی مجاہدہ کو چاہتی ہے جس کا نشان صرف زبانی الفاظ کو طوطے کی طرح رہنا نہیں ہوتا۔بلکہ خشوع و خضوع، سوز وگداز اور مضطر بانہ بے چینی کا قلب میں محسوس ہونا ضروری ہے اور سب سے زیادہ قبولیت کا شرف حاصل کرنے والی وہ دعا ہے جس میں انسان اللہ تعالیٰ کا آلہ بن کر اور دینی اغراض و مقاصد کو مدنظر رکھ کر دعا کرے ورنہ وہ دعا جو نفسانیت کی تاریکیوں میں اضافہ کرنے والی ہو ، اگر قبول بھی ہو تو دینی نقصان کے اعتبار سے زہر قاتل اور خدا تعالیٰ کی طرف سے بطور ابتلاء کے ہوتی ہے نہ کہ بطور اصطفاً کے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعا کے متعلق ارشاد میں نے سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زبان مبارک سے یہ بار ہا سنا ہے کہ جس دنیا کے طمع اور لالچ کو ہم لوگوں کے اندر سے نکالنے کے لئے آئے ہیں افسوس ہے کہ لوگ زیادہ تر اسی کے متعلق دعا کرنے کی خواہش کرتے ہیں۔کبھی یہ درخواست کرتے ہیں کہ بیوی یا اولا دنر بینڈمل جائے کبھی ملازمت یا عہدہ میں ترقی کے لئے کہتے ہیں کبھی کاروبار میں نفع یا بیماری سے شفا پانے کے لئے درخواست کرتے ہیں۔ایسے بہت تھوڑے ہیں جو یہ دعا کرواتے ہیں کہ ہمیں خدا کی محبت اور اطاعت نصیب ہو اور خدمت دین کا موقع ملے۔اللہ تعالیٰ ہمیں گناہوں سے بچائے۔اور ان سے نفرت پیدا فرمائے۔اور روحانی امراض سے شفا حاصل ہو۔حضور اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کے کلمات طیبات کا مفہوم بیان کیا گیا ہے ہو سکتا ہے کہ الفاظ میں کسی قدرا ختلاف ہو۔سعد اللہ پور کا ایک اور واقعہ مذکورہ بالا واقعہ کے کافی عرصہ بعد جب میں تبلیغی اغراض کے ماتحت بعض مقامات کے دورہ پر تھا تو سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی طرف سے مجھے حکم پہنچا کہ