حیات قدسی

by Other Authors

Page 157 of 688

حیات قدسی — Page 157

۱۵۷ تحت الثریٰ کی پستی اسفل کی خاک تھا ہاں خاک سے اسی نے ثریا بنا دیا محجوب تھا ، حقائق ہستی سے دور تر اک ہی نظر سے نور کا جلوہ دکھا دیا جو خلق سے بھی پورا شناسا نہ ہو سکا اعجاز قدس سے اسے خالق ملا دیا مستی عشق یار ازل کی خبر نہ تھی لطف نگاہ ساقی نے ساغر پلا دیا سنتے رہے خدا کو، خدا کے کلام کو ہادی نے ہم کو دونوں تلک ہی پہنچا دیا دکھلا دیا ہے یار ازل کا جمال بھی گفتار بھی نا کے شناسا بنا دیا ہادی میرا ہے احمد مرسل مسیح پاک جس نے جہاں کو خواب سے آ کر جگا دیا اب آرزو ہے یہ کہ دل و جاں فدا رہے احمد نبی پہ جس نے ہمیں مدعا دیا صد شکر ہے کہ پالیا مقصد حیات کا یعنی خدا نے شرک کو دل سے مٹا دیا صحبت نبی سے ہونے کا حاصل ہوا شرف فيض مسیح پاک نے رتبہ بڑھا دیا آڑے وقت کی دعا مجھ حقیر اور نا چیز کو خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل و احسان سے کثرت کے ساتھ دعائیں کرنے کی توفیق بخشی ہے اور میری بہت سی عاجزانہ دعاؤں کو محض اپنی ازلی و ابدی اور بے پایاں رحمت سے شرف قبولیت بھی بخشا ہے میں نے اپنی التجاؤں میں قرآن کریم اور احادیث کی دعاؤں کے علاوہ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آڑے وقت کی دعا سے بہت فائدہ اٹھایا ہے۔یہ دعا حضرت اقدس علیہ السلام کے ایک خط سے جو حضور نے حضرت مولانا نور الدین صاحب خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام تحریر فرمایا ، ماخوذ کی گئی ہے۔اس کے الفاظ یہ ہیں :۔”اے میرے محسن اور اے میرے خدا میں ایک تیرا نا کارہ بندہ پر معصیت اور پر غفلت ہوں۔تو نے مجھ سے ظلم پر ظلم دیکھا اور انعام پر انعام کیا اور گناہ پر گناہ دیکھا اور احسان پر احسان کیا تو نے ہمیشہ میری پردہ پوشی کی اور اپنی بے شمار نعمتوں سے متمتع کیا۔سو اب بھی مجھے نالائق اور پُر گناہ پر رحم کر اور میری بیبا کی اور ناسپاسی کو معاف فرما اور مجھ کو میرے اس غم سے نجات بخش کہ بجز تیرے اور کوئی چارہ گر نہیں،‘ آمین