حیات قدسی

by Other Authors

Page 149 of 688

حیات قدسی — Page 149

۱۴۹ بسم الله الرحمن الرحيم - نحمده ونصلى على رسوله الكريم وعلى عبده المسيح الموعود و آلهما مع التسليم باعث تالیف کتاب ہذا کتاب ہذا کی تالیف کا باعث وسبب دراصل جلد اول میں درج ہونا ضروری تھا۔لیکن چونکہ اس جگہ اندارج نہیں پاسکا۔اس لئے یہاں پر تحریر کیا جاتا ہے (مرتب) سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد سے اب تک اکثر احباب نے جن سے مجھے میل ملاقات و نشست و برخاست کا موقع ملتا رہا، یہ خواہش ظاہر کی کہ ان فیوض و برکات کو جو مجھے حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے خلفاء عظام کے تعلق بیعت اور زیارت وصحبت سے حاصل ہوئے ہیں قلمبند کر کے محفوظ کر جاؤں تا کہ ان سے دوسری سعید روحوں کو بھی فائدہ پہنچ سکے۔بالخصوص آئندہ آنے والی نسلیں ان سے نور و برکت حاصل کر سکیں۔احباب کی اس خواہش کو پور ا کرنے کا کئی دفعہ میں نے ارادہ کیا لیکن تبلیغی مصروفیتوں اور اکثر سفروں کی نقل و حرکت کی وجہ سے مجھے فرصت میسر نہ آئی اور میں اپنے ارادہ کو عملی جامہ نہ پہنا سکا۔۴۰ - ۱۹۳۹ء میں جب نوجوانانِ احمدیت نے یہ دیکھا کہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے صحابہ دن بدن اس فانی دنیا سے عالم بقا کی طرف رحلت کرتے جا رہے ہیں اور ان کی تعداد یو ما فیونا کم ہوتی جا رہی ہے تو بعض مخلصین نے موجود الوقت صحابہ کے حالات قلمبند کرنے کا التزام کیا۔اسی سلسلہ میں میرے کچھ حالات کتاب بشارات رحمانیہ میں بھی طبع ہوئے۔لیکن وہ بہت ہی نا مکمل اور مختصر تھے۔بعض اور نوجوانوں نے بھی حالات قلمبند کئے لیکن وہ شائع نہ ہو سکے اور معلوم ہوتا ہے کہ ۱۹۴۷ء کے قیامت خیز انقلاب میں جہاں اور بہت سے نوادر ضائع ہوئے۔وہاں صحابہ کے حالات بھی ضائع ہو گئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا اليهِ رَاجِعُونَ۔ایک رؤیا کا ذکر مارچ ۱۹۴۶ء میں جب میں سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ارشاد کے ماتحت دار التبلیغ پشاور میں بغرض تبلیغ و درس و تدریس متعین کیا گیا تو بعض احباب نے