حیات قدسی

by Other Authors

Page 150 of 688

حیات قدسی — Page 150

۱۵۰ تجدیدا تحریک کی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ فیوض و برکات کو ضرور قلمبند کیا جائے۔چنانچہ میں خاص طور پر اس دعا میں لگ گیا کہ اگر ان فیوض حاصلہ کا قلمبند کرنا خدا تعالیٰ کی رضا کے مطابق ہے اور اس سے اسلام اور احمدیت کی کچھ خدمت ہو سکتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی توفیق بخشی جائے۔اسی اثناء میں جب میں دعاؤں میں لگا ہوا تھا تو مورخہ ۱۲-۱۳ / جولائی ۱۹۴۶ء کی درمیانی شب کو رویا میں مجھے سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زیارت نصیب ہوئی۔مجھے مخاطب کر کے فرمایا ہے اے بیخبر بخدمت قرآن کمر بند زاں پیشتر کہ بانگ برآئد فلاں نماند ترجمہ: اے بے خبر خدمت قرآن پر کمر باندھ لے اس سے پیشتر کہ یہ آواز بلند ہو کہ فلاں شخص (زندہ) نہیں رہا۔جب میں خواب سے بیدار ہوا تو سوچنے پر مجھے معلوم ہوا کہ جہاں تک درس و تدریس اور تقاریر کے ذریعہ خدمت قرآن کا تعلق ہے اس کا تو مجھے ایک لمبے عرصہ سے بفضلہ تعالیٰ موقع مل رہا ہے۔لیکن ہو سکتا ہے کہ اس سے مراد قرآنی معارف و حقائق اور فیوض کو جو حضرت مسیح پاک اور آپ کے مقدس خلفاء کی برکت سے مجھے حاصل ہوئے ہیں ان کو کتابی شکل میں محفوظ کرنا ہو۔واللہ اعلم بالصواب میں نے یہ رویا سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت با برکت میں تحریر کیا۔اس کے جواب میں ۵ ستمبر ۱۹۴۶ء کو حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی طرف۔مندرجہ ذیل الفاظ تحریراً ارشاد ہوئے۔اللہ تعالیٰ خوابوں کو مبارک کرے۔اصل چیز تو قرآن کریم کی اشاعت ہی ہے اللہ تعالیٰ اس کی توفیق بخش دے اس رؤیا اور حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے پیش نظر میں نے اس وقت جبکہ میری زندگی کے آخری ایام ہیں۔اور عمر ستر سال سے متجاوز ہو چکی ہے دعائے استخارہ کے بعد اس کارخیر کو اعمال حسنہ میں سے سمجھتے ہوئے شروع کر دیا ہے۔اس کے بخیر و خوبی انجام پانے کے لئے میں اپنے موفق