حیات قدسی — Page 133
۱۳۳ حضرت حوا کی فرمائش خدا تعالیٰ کے فضل سے مجھے نو جوانی کے زمانہ سے ہی دعائیں کرنے کی عادت ہے اور جب میں دعا شروع کرتا ہوں تو اس میں سب سے اول خدا تعالیٰ کی توحید و تحمید و تمجید کے قیام اور اس کے انبیاء و اولیاء کے روحانی اغراض و مقاصد کے پورے ہونے کے لئے دعا کرتا ہوں اور پھر ازل سے لے کر ابد تک کے تمام منعمین اور خصوصاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کی روحانی و جسمانی اولاد کے لئے بھی دعائیں کرتا رہتا ہوں۔اس ضمن میں ایک دفعہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں جنت کے ایک باغ میں بیٹھا ہوا ہوں کہ اچانک میرے سامنے سے ایک عورت نمودار ہوئی جس کا قد وقامت درختوں کے لگ بھگ او نبہ تھا جب میں اسے بلحاظ قامت بالا دیکھ کر حیران ہوا تو مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے بتایا گیا کہ یہ عو تمہاری اماں حوا ہیں۔چنانچہ جب آپ میرے پاس پہنچیں تو آپ نے مجھ سے فرمایا کہ آپ سب لوگوں کے لئے دعا کرتے ہیں میرے لئے کیوں نہیں کرتے۔میں نے کہا بہت اچھا اب آپ کے لئے بھی دعا کیا کروں گا۔اس کے بعد میں نے آپ سے پوچھا کہ آپ کی اور حضرت آدم علیہ السلام کی عمر میں کتنا فرق ہے۔اس کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ میں حضرت آدم علیہ السلام سے ہیں سال بعد پیدا ہوئی ہوں۔اس خواب کے بعد میں آپ کے ارشاد کی تعمیل تو کرتا رہا مگر آپ کے قد و قامت اور حضرت آدم سے ہیں سال بعد پیدا ہونے کی حقیقت معلوم نہیں ہوسکی۔واللہ اعلم بالصواب وقف قرآن ایک دفعہ میں سورہ بقرہ کا آخری رکوع پڑھ رہا تھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ سے بتایا کہ جب كل امن بالله و ملئِكَتِهِ وَ رُسُلِهِ کا فقرہ پڑھا جائے تو رسلہ کے لفظ پر وقف کرنا چاہیئے۔ہمارے پنجاب میں اکثر لوگ لا نفرق بين احد من رسله پر وقف کر لیتے ہیں مگر پہلے رسلہ پر وقف نہیں کرتے۔ہاں خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ایک دفعہ جب میں اور خواجہ کمال الدین صاحب اور ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب اور لال شاہ صاحب برق پشاوری