حیات قدسی — Page 127
۱۲۷ والد ماجد کے لکھ کر مرکز میں بھجوائے ہوں اور ان میں دیگر سوانحات کے علاوہ ان احمدیوں کا بھی کچھ ذکر کیا ہو۔اس لئے اب میں اس مضمون کو یہاں ختم کرتے ہوئے اپنے اصل مضمون کی طرف رجوع کرتا ہوں۔وما توفيقى إِلَّا بِاللهِ العلى العظيم۔موضع رجوعہ میں مباحثہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حین حیات میں ایک دفعہ موضع رجوعہ تحصیل پھالیہ کے بعض احباب مجھے اپنے ساتھ لے گئے۔جب میں ان کے گاؤں میں پہنچا تو مجھے معلوم ہوا کہ یہاں کے غیر احمدی لوگ حافظ مولوی قطب الدین ساکن چک میانہ کو جو اس علاقہ میں عام شہرت رکھتے تھے احمدیوں کو بہکانے کے لئے لائے ہوئے ہیں اور یہ بھی سنا گیا کہ انہوں نے ایک مجلس میں قرآن مجید اور احادیث سے غلط استدلال کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے دعاوی اور دلائل کی تردید کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔خیر جب میں وہاں پہنچا اور لوگوں کو بھی میرے آنے کی اطلاع مل گئی تو ایک اجتماع کی صورت میں مولوی صاحب مذکورہ سے مباحثہ شروع ہو گیا۔اس مباحثہ میں جب خدا تعالیٰ نے مولوی صاحب کو کھلی کھلی شکست دی اور ان کے سب دلائل ٹوٹے گئے تو لوگوں پر خاص اثر ہوا اور چوہدری قطب الدین صاحب اور چوہدری بڑھا صاحب وڑائچ اسی وقت احمدی ہو گئے۔اس کے بعد مولوی صاحب وہاں سے چلے گئے اور ہم چوہدری سکندر خاں صاحب کی حویلی میں آگئے۔اس مباحثہ میں چوہدری صاحبداد خاں صاحب جن کا ذکر موضع چھو را نوالی کے واقعہ میں بھی آچکا ہے بھی موجود تھے یہ چونکہ قیصر شاہ ساکن وائیا نوالی ضلع گوجرانوالہ کے مرید تھے اس لئے ان کی طبیعت پر ملامتی فرقہ کا بہت کچھ رنگ چڑھا ہوا تھا اور اپنے پیر کی طرح مثنوی مولانا روم کو قرآن مجید سمجھتے تھے۔انہوں نے جب مباحثہ سنا تو اس کے بعد ہماری قیامگاہ پر چلے آئے۔اور برسبیل تذکرہ اس بات کا ذکر کیا کہ میں نے ایک دفعہ مثنوی مولانا روم کے ایک شعر کے متعلق جناب مرزا صاحب اور مولانا نورالدین صاحب کو لکھا تھا کہ وہ اسے حل کر دیں مگر ان دونو صاحبان نے آج تک میرے اس خط کا جواب نہیں دیا۔میں نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ آپ کا خط ڈاک میں کھو گیا ہو یا ان بزرگوں کو ملا ہو مگر اس وقت ان کو جواب دینے کی فرصت نہ ہو۔اس لئے آپ اس شعر کو میرے سامنے پیش کریں اگر ہو سکا تو میں اس شعر کو حل کر دوں گا۔چنانچہ اس وقت چوہدری کے