حیات قدسی — Page 110
غیبی طاقت اور روحانی اقتدار اپنے اندر محسوس کیا اور مجھے یوں معلوم ہونے لگا کہ میں اس مرض کے ازالہ کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک اعجاز نما قدرت رکھتا ہوں۔چنانچہ اسی وقت میں نے اس مریض کو کہا کہ تم میرے سامنے ایک پہلو پر لیٹ جاؤ اور تین چار منٹ تک جلد جلد سانس لینا شروع کر دو ( یہ بات میں نے ایک الہامی تحریک سے اسے کہی تھی ) چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا۔اس کے بعد میں نے اسے اُٹھنے کے لئے کہا۔جب وہ اٹھا تو اس کی ہچکی با لکل نہ تھی۔اس کرامت کو جب تمام حاضرین نے دیکھا تو حیرت زدہ ہو گئے اور وہ دونو بھائی بلند آواز سے کہنے لگے کہ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ مرزا صاحب واقعی سچے ہیں اور ان کی برکت کے نشان واقعی نرالے ہیں۔اس کے بعد حکیم علی احمد صاحب احمدی رضی اللہ عنہ جو ایک عرصہ تک اس مریض کا علاج کر کے مایوس ہو چکے تھے ، مجھے کہنے لگے آپ نے تو کمال کر دیا ہے۔میں نے کہا یہ تو احمدیت کا کمال ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ نشان ظاہر کیا ہے۔الحمد للہ علی ذالک ول کی نماز سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عہد مبارک میں ایک دفعہ ملامتی فقیروں کی ایک ٹولی موضع سعد اللہ پور ضلع گجرات میں وارد ہوئی۔لوگوں نے جب ان فقیروں کی بے دینی کے حالات ملاحظہ کئے اور بعض مسائل کے متعلق ان سے گفتگو بھی کی تو ان کے سرگروہ نے جو بڑا چالاک اور ہوشیار آدمی تھا سب کو لاجواب کر دیا۔اتفاق سے انہی دنوں میں بھی اس گاؤں میں گیا تو مجھے بھی بعض دوستوں نے ان کے حالات سے آگاہ کرتے ہوئے ان سے گفتگو کرنے کو کہا۔چنانچہ میں بھی صبح کے وقت چند دوستوں کے ہمراہ ان کے پاس پہنچا اور ان لوگوں سے مسائل مخصوصہ کے متعلق گفتگو کی۔دوران گفتگو میں جب نماز کے متعلق بات چلی تو ان لوگوں کے سرگروہ نے کہا کہ نماز تو دراصل دل کی ہوتی ہے ورنہ ظاہری نماز تو کافر اور منافق انسان بھی پڑھ سکتا ہے۔اس کے جواب میں میں نے انہیں بتایا کہ اگر دل کی نماز سے تمہاری مراد یہی ہے کہ اس کی ادائیگی میں ظاہری ارکان کی چنداں ضرورت نہیں تو ایسی نماز ہمارے شارع علیہ الصلوۃ والسلام کی شریعت سے تو ثابت نہیں ہوتی کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں نماز کے ساتھ حضور قلب کی شرط لگائی ہے وہاں آنحضرت صلعم نے اپنے اسوۂ حسنہ سے اس کے ظاہری ارکان کی پابندی کو بھی ضروری قرار دیا ہے۔