حیات قدسی — Page 111
بلکہ حدیث شریف میں تو نماز کے تارک کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ مَنْ تَرَكَ الصَّلوةَ مُتَعَمِّدًا فَقَدْ كَفَرَ 12 یعنی جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑ دی وہ یقیناً کا فر ہو گیا۔اور ایک جگہ فرمایا۔الفرق بين العبد المؤمن والكافر ترك الصلواة 18 کہ مومن اور کا فرانسان کا امتیاز نماز چھوڑنے سے ہو جاتا ہے۔ایسا ہی قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قیامت کے روز جب اہلِ جنت دوزخیوں سے دوزخ میں جانے کی وجہ دریافت کریں گے تو اس کے جواب میں دوزخی اپنا سب سے پہلا جرم یہی بتائیں گے کہ لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ یعنی ہم وہ نماز جو حضور قلب اور ارکان مخصوصہ پر مشتمل تھی ادا نہیں کیا کرتے تھے۔پس مسلمان ہوتے ہوئے نماز کے متعلق یہ خیال کرنا کہ اس کا تعلق محض دل سے ہے اور قیام و رکوع اور سجود وقعود سے وابستہ نہیں یہ بات صحیح نہیں ہے۔اس کے بعد میں نے مثال کے طور پر انہیں یہ بھی سمجھایا کہ انسان در اصل محض روح یا محض جسم کا نام نہیں بلکہ روح اور جسم کے مرکب کا نام ہے یہی وجہ ہے کہ انسان کی روح جہاں اس کے جسمانی مؤثرات سے متاثر ہوتی ہے وہاں اس کا جسم بھی اس کے روحانی موثرات سے متاثر ہونے پر مجبور ہے۔پس یہ خیال کرنا کہ دل میں تو اللہ تعالیٰ کی محبت اور عظمت کا جذبہ موجود ہو مگر جسم اور اس کے اعضاء جوارح پر اس کا کوئی اثر نہ ہو درست نہیں ہے۔ان مختصر دلائل کے بعد میں نے ان فقیروں کو سمجھایا کہ فقیری اور تصوف دراصل یہ نہیں جو آپ کو لوگ سمجھ رہے ہیں بلکہ فقیری تو حقیقت میں یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو شریعت کے قالب میں ڈھال لے اور مجاہدات اور ریاضتوں سے اپنے نفس کے آئینہ کو بالکل صاف کر کے طریقت۔حقیقت اور معرفت کی منزلوں کو طے کرے اور جس طرح دودھ کو جامن لگانے کے بغیر دہی اور دہی کو بلونے کے بغیر مکھن اور مکھن کو آگ پر تپانے کے بغیر گھی نہیں بنتا اس طرح انسانی فطرت کے دودھ کو بھی جامن لگانے کے بغیر دہی یعنی طریقت اور دہی کو بلو نے یعنی اپنے آپ کو مجاہدات اور ریاضتوں میں ڈالنے کے بغیر مکھن یعنی حقیقت اور مکھن کو آگ پر تپانے کے بغیر یعنی اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی آتشِ عشق میں جلانے کے بغیر گھی یعنی خدا تعالیٰ کی معرفت حاصل نہیں ہوتی۔اس لئے انسان کو چاہیئے کہ وہ ان