حیات قدسی — Page 105
۱۰۵ مولوی احمد الدین ساکن پادشہاں ضلع جہلم مولوی محمد چراغ چکوڑوی۔مولوی سید عبدالکریم شاہ مگو والیہ میاں محمد عالم ساکن دھد رہا۔چوہدری الہی بخش ساکن گڈ ہو۔مولوی غلام احمد مولوی فاضل ساکن جو کالیاں۔سید عمر شاہ ساکن گجرات۔مولوی غلام احمد ساکن ڈوگہ تہال۔مولوی محمود گنجوی۔مولوی محمد حسین مولوی فاضل ساکن کولو تارڑ ضلع گوجرانوالہ مولوی محمد عظیم ساکن لگھڑ مولوی قاضی سلطان محمود ساکن آ ہی اعوان ضلع گجرات وغیرھم ہیں جن کے ساتھ میرے مباحثات ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے فضل وکریم سے ہمیشہ ان لوگوں پر فتح نصیب فرمائی ہے۔ایک دفعہ میں موضع رجوعہ میں تبلیغ کی غرض سے گیا ہوا تھا تو ایک ہفتہ کے بعد میرے پاس تین علماء پہنچے اور مجھے اپنے ساتھ موضع چھورا نوالی جانے کے لئے کہا میں نے ان سے وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ موضع مذکور میں ایک شخص چوہدری صاحبداد خاں ہے جو کیسر شاہی طریق کا رند اور بدعتی فقیر ہے وہ مثنوی مولانا روم کو اپنا قرآن سمجھتا ہے اور ولی اللہ کا درجہ نبی اور رسول سے بھی بڑھ کر بتا تا ہے اور کئی لوگ اس کے معتقد بھی ہو چکے ہیں اب تمام علاقہ کے علماء اس کے گاؤں میں جمع ہوئے ہیں تا کہ اس کو اس زندقہ والحاد سے توبہ کرائیں اور اگر وہ تو بہ نہ کرے تو پھر اس پر کفر کا فتویٰ لگا کر لوگوں کے کو اس کے شر سے محفوظ کیا جائے۔اور ہم آپ کی خدمت میں بھی اس لئے حاضر ہوئے ہیں کہ آپ بھی اس اسلامی جہاد میں حصہ لیں اور ہماری امداد فرمائیں۔ہم نے تو آپ کو لانے کے لئے آپ کے گاؤں راجیکی جانا تھا مگر ہمیں کسی سے معلوم ہو گیا کہ آپ رجوعہ آئے ہوئے ہیں اب آپ ہمارے ساتھ ضرور تشریف لے چلیں۔میں نے انہیں بتایا کہ اس جگہ پر اس قدر علماء جمع ہوں گے وہ حنفی اور سنی ہوں گے جن کے نزدیک ہم اور ہمارا پیشوا پہلے ہی کا فر خیال کئے جاتے ہیں اس لئے اس موقع پر آپ کا ایک کافر سے استمداد کرنا اچھا نہیں۔اس پر انہوں نے کہا کہ ہم تو مرزا صاحب جیسے بزرگ کو جس نے تمام عیسائیوں، آریوں اور دیگر فرقہ ہائے ضالہ کا ناطقہ بند کر دیا ہے، اسلام کا سچا خیر خواہ اور جاں نثار سمجھتے ہیں اور ایسے تمام خبیث مولویوں کو جنہوں نے آپ پر کفر کا فتویٰ لگایا ہے خود کا فر سمجھتے ہیں آپ ہمیں ایسا خیال نہ فرمائیں اور براہ مہربانی ہمارے ساتھ تشریف لے چلیں۔میں نے جب ان کی یہ باتیں سنیں تو اسی وقت بعض احمدی احباب کی معیت میں گھوڑیوں پر ان کے ساتھ موضع چھورا نوالی روانہ ہو گیا۔جب ہم سب دوست وہاں پہنچے تو وہاں لوگوں کا بہت اثر دھام پایا۔چوہدری صاحبداد نے جب ہمیں دیکھا تو اسی وقت اپنے نوکروں کو کہا کہ احمدی صاحبان کی گھوڑیاں