حیاتِ نور — Page 75
۷۵ خطر ناک تھا۔حوالہ دیکھ کر بھی انہوں نے حجت بازی شروع کر دی۔آپ نے آثار و قرائن سے بھانپ لیا تھا کہ یہ اجتماع ایک فساد برپا کرنے اور آپ کو نقصان پہنچانے کی دراصل ایک سازش تھی۔یہائیک کر تحصیلدار صاحب جو ہندو تھے۔وہ بھی ان کا ساتھ دے رہے تھے۔اس نے آپ کو دھمکی بھی دی۔آپ نے خدا تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے اپنی پوری طاقت کے ساتھ تحصیلدار کی شہ رگ کو انگوٹھے اور انگلی کی مدد سے اچانک اس طرح دبایا کہ تحصیلدار صاحب کی چیخ نکل گئی اور وہ بیہوش ہو کر گر پڑے۔تھانہ دار کو جب یہ معلوم ہوا کہ تحصیلدار مارا جا چکا ہے۔تو اُسے خیال آیا کہ ہم تو تھانہ سے روز نامچہ میں روانگی درج کر کے نہیں آئے۔اگر اس وقوعہ کی اطلاع افسران بالا تک پہنچی تو ہم کیا جواب دیں گے۔وہ سپاہیوں سمیت فورا تھانہ کی طرف روانہ ہو گیا۔تحصیلدار صاحب کے بیہوش ہونے اور پولیس کے چلے جانے کا پلک پر یہ اثر ہوا کہ آنا انا مسجد خالی ہوگئی۔اور وہاں صرف آپ اور بیہوش تحصیلدار ہی رہ گیا۔تحصیلدار کا نام رائد اس تھا۔جب وہ ہوش میں آئے تو اُن کے چہرہ کا رنگ زرد اور منہ فق تھا۔انہوں نے آپ کو بڑی لجاجت اور خوفزدہ آواز سے کہا۔مہاراج! میں آپ کا مخالف نہیں ہوں۔وہ سمجھتے تھے کہ یہ کہیں مذہبی مخالفت میں مجھے قتل نہ کر ڈالے۔مگر آپ نے انہیں محبت سے اٹھا یا ور گلے لگالیا۔لیکن اُن کا اندیشہ پھر بھی رفع نہ ہوا۔اس پر آپ اُسے بغل میں لئے ہوئے مسجد سے باہر نکلے۔جب شہر کے قریب پہنچے۔تب تحصیلدار صاحب کی جان میں جان آئی اور اُن کے چہرے کا رنگ بدلنا شروع ہوا۔چوک میں پہنچنے تک وہ بالکل سنبھل گئے اور آپ سے عرض کی کہ کیا اب مجھے تحصیل کی طرف جانے کی اجازت ہے؟ آپ نے فرمایا۔ہاں جاؤ۔آپ فرماتے ہیں کہ اُن کی شرافت کا یہ حال ہے کہ آخری دم تک انہوں نے اور اُن کے بیٹے ڈاکٹر فتح چند نے میری ہمیشہ بچی تعظیم کی اور کبھی بھی اس امر کا اظہار نہ کیا۔دکھی اللہ المومنين القتال ایک عجیب مباحثہ اسی طرح ایک عجیب مباحثہ کی سرگزشت آپ نے یوں بیان فرمائی ہے کہ جب ایک مباحثہ کے لئے آپ ایک گاؤں میں علمائے گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک وسیع میدان میں بہت سی چارپائیوں پر کافی تعداد میں کتابیں علیحدہ علیحدہ پھیلا کر رکھی گئی ہیں۔اور جب آپ نے دریافت فرمایا کہ اس قدر کتابیں کیوں فراہم کی گئی ہیں۔تو معلوم ہوا کہ یہ تمام کتابیں رفع یدین والی حدیث کے رد میں ہیں۔اس پر آپ کو بہت تعجب ہوا۔آپ کے پاس ایک کتاب " معمولات مظہری نام تھی۔آپ نے کھڑے