حیاتِ نور — Page 774
و لیکن نورالدین کی سطوت آفرین شخصیت اس سطح رفعت پر نمایاں نہ ہوئی جس قدر بعد مرگ ہوئی ہے۔ابھی مشکل سے اس کا لبد کو جس میں انوار معانی مہمان دو روزہ تھے۔بالین آسائش ملی تھی کہ اس کے خرقہ سیادت کے لئے احمدی اراکین کی استحقاقی جہد آزمائی ایک تفرقہ پرور حد مخاصمت تک پہنچ گئی تحریک احمدیہ کا امتزاج فوری اس ذات مدفونہ کی گراں پائیگی کو نمایاں تر کر دیتا ہے جو تحریک مذکورہ کے عناصر متضادہ کا نکہ توازن تھی۔بے شبہ جذب روحانی کے بغیر تجر علمی کی نکتہ سرائی ایک منزل نا آشنا بدلگامی ہے۔ورنہ احمدی ارباب تفکر جو کل تک جملہ مذاہب ہندیہ کے مہیب اور قاہرانہ حربوں کی اجتماعی قوت کے خلاف ایک پر وقار سعی دفاع میں مصروف تھے۔آج کشمکش باہم میں مبتلا ہیں اور یہ ارباب فضل اس صاحب ہمت کی پیروی کے مدعی ہیں جو اپنی جہد آشنا زندگی کی آخری ساعتوں میں پیکر مودت بن کر جانب لاہور قدم زن ہوا۔اور دم واپسین مذاہب عالم کو صلح و آشتی کا پیغام دے گیا۔" مندرجہ بالا اخبارات جن کی آراء حضرت خلیفۃ ابیح الاول رضی اللہ عنہ کی وفات پر درج کی گئی ہیں۔ان میں حضور کے عظیم الشان کارناموں اور پاکیزہ سیرت کا نقشہ کھینچ کر رکھ دیا گیا ہے۔خصوصاً کرزن گزٹ کے ایڈیٹر نے تو عینی شاہد کے طور آپ کی سیرت و سوانح کے حسین گوشوں کو تاریخی واقعات کی روشنی میں باوجود انتہائی اختصار کے ایسے موثر و خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے کہ حضور کی روحانی عظمت، اخلاقی قوت علمی فضیلت اور عملی فوقیت کا اقرار کئے بغیر چارہ نہیں۔اور حقیقت تو یہ ہے کہ سید نا نور الدین کی خوبیوں اور کمالات کا واقعی نقشہ اگر الفاظ میں پیش کرنا ہو تو مجھے تو ان الفاظ سے خوبتر اور کوئی نہیں مل سکے جو اس کے محبوب آقا علیہ السلام نے اس کی نسبت لکھ کر اسے ثبت دوام بخشا چہ خوش کو دے اگر ہر یک زامت نور دیں پودے ہمیں پودے اگر ہر وں پر از نور یقیں بُو دے آپ کی طبیبانہ زندگی اس کتاب میں حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طبیبانہ زندگی کا بہت مختصر سا ذکر کیا گیا ہے۔اور وہ بھی ضمنا۔کیونکہ یہ موضوع بجائے خود ایک ضخیم کتاب کا متقاضی ہے۔تا ہم شفاء الملک جناب حکیم محمد حسین صاحب قرشی کی مرتبہ بیاض خاص کا ایک حوالہ درج کیا جاتا ہے۔جس سے یہ