حیاتِ نور — Page 696
اتِ تُنور ۶۹۱ میں قریباً نصف نصف گز سبزہ اگا ہوا تھا۔اس میدان میں جہانتک نظر جاتی تھی سبزہ ہی سبزہ نظر آتا تھا۔گھوڑے نے تیزی کیسا تھ اس میدان میں بھی دوڑتا شروع کیا۔جب میں درمیان میں پہنچا تو میری آنکھ کھل گئی۔میں نے اس خواب سے سمجھا کہ وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ یہ خلافت کے گھوڑے سے گر جائے گا۔جھوٹے ہیں اور اللہ تعالیٰ مجھے اس پر قائم رکھے گا۔بلکہ کامیابی عطا فرمائے گا۔سو خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے میری اس خواب کو بھی پورا کیا اور اس سال کے جلسہ نے اس کی صداقت بھی ظاہر کر دی کہ باوجود لوگوں کی کوششوں اور مخالفتوں کے اور باوجود گمنام ٹریکٹوں کی اشاعت کے اس نے میری تائید پر تائید کی اور جماعت کے دلوں میں روز بروز اخلاص اور محبت کو بڑھایا اور ان کے دل کھینچ کر میری طرف متوجہ کر دئیے اور انہیں اطاعت کی توفیق دی اور فتنہ پردازوں کی حیلہ سازیوں کے اثر سے بچائے رکھا۔۲۵ من انصاری الی اللہ حضرت خلیفہ المسیح الاول کی اجازت سے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے احباب جماعت میں ایک تحریک کی کہ: اس وقت ایک دوست نے کچھ روپیہ تبلیغ سلسلہ کے لئے دینے کا وعدہ کیا ہے اور میرا خیال ہے کہ اسے اس طرح خرچ کیا جائے کہ جماعت کے چند آدمی جو قرآن شریف کا ترجمہ اچھی طرح جانتے ہوں۔حضرت صاحب کی کتب انہوں نے خوب مطالعہ کی ہوں۔تبلیغ کے لئے ہندوستان کے مختلف علاقوں میں اس طرح بھیجے جائیں کہ انہیں ڈیڑھ دو سورد پیہ تجارت کے لئے دیا جائے۔وہ مال تجارت لے کر ان علاقوں میں پھریں۔جن میں ہم انہیں بھیجیں اور اپنا گزارہ اور خرچ تجارت سے کریں۔اصل روپیہ محفوظ سمجھا جائے گا اور وہ ہمارا ہی ہوگا۔اس وقت زیادہ تر ضرورت راجپوتانہ ممالک متوسط، بہار، بنگالہ ، ہمبئی ، مدراس اور حیدرآباد کے علاقوں میں ہے۔“ ۲۶ اس مقدس کام کے ثواب میں دوسرے احباب کو شریک کرنے کے لئے آپ نے ”دعوت الی الخیر کے عنوان سے ایک ہیڈنگ قائم فرمایا۔جس میں ان احباب کی فہرست شائع کی جاتی رہی۔جو اس