حیاتِ نور — Page 611
۶۰۶ اس کے پیچھے پیچھے حضرت میر صاحب بھی ہیں۔چٹھی رساں نے منی آرڈر فارم حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی خدمت میں پیش کیا۔اور حضور نے اس پر دستخط کر دیئے اور فرمایا کہ روپیہ میر صاحب کو دیدیں۔وہ روپیہ اتنی ہی تعداد میں تھا جتنا کہ آپ نے فہرست میں میر صاحب کو وعدہ لکھوایا تھا“۔یہی واقعہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۲۸ / دسمبر ۱۹۵۶ء کے خطبہ جمعہ میں اس طرح بیان فرمایا: حضرت خلیفہ اول کو یہ دعوی تھا۔فرمایا کرتے تھے کہ ہمیں ایک نسخہ معلوم ہے کہ اس کی وجہ سے جو ضرورت ہوتی ہے وہ پوری ہو جاتی ہے اور روپیہ آ جاتا ہے۔نانا جان مرحوم باہر جاتے تھے۔چندے لیتے تھے مسجد کے لئے اور دار الضعفاء وغیرہ کے لئے۔ایک دن مسجد میں بیٹھے ہوئے کہنے لگے۔میر صاحب میں آپ کو وہ نسخہ بتاؤں کہ جس کے ذریعہ سے آپ کو گھر بیٹھے روپیہ آ جایا کرے اور مسجدمیں بھی بن جائیں اور دار الضعفاء بھی بن جائیں۔آپ کو باہر پھرنا نہ پڑے۔سنتے ہی نانا جان کہنے لگے۔نہیں مجھے ضرورت نہیں۔میں خدا کے سوا کسی کا محتاج ہونا نہیں چاہتا۔مجھے خدا دلائے گا اور اس سے مانگوں گا۔آپ سے نسخہ نہیں لیتا۔حضرت خلیفہ اول ان کے پیر بھی تھے۔بیعت بھی کی ہوئی تھی۔پھر وہ نسخہ بتانا چاہتے تھے۔عام طور پر غیر احمدی سمجھا کرتے تھے کہ آپ کو کیمیا آتا ہے اور لوگ آیا کرتے تھے کہ ہمیں کیمیا سکھا دیں۔تو نانا جان پر وہ آپ ہی مہربان ہو گئے اور کہنے لگے۔میں آپ کو وہ نسخہ بتا دیتا ہوں جس کی وجہ سے جب ہمیں روپیہ کی ضرورت ہوتی ہے تو خدا ہمیں آپ ہی مہیا کر دیتا ہے۔مگر نا نا جان کہنے لگے۔نہیں نہیں بالکل نہیں میں نہیں سیکھنا چاہتا۔میں تو خدا سے مانگوں گا۔مجھے آپ سے نسخہ لینے کی ضرورت نہیں"۔ہے۔نوٹ: حضرت حافظ صاحب بیان فرماتے ہیں کہ جب حضرت خلیفہ اول نے میر صاحب کو فرمایا کہ ہم آپ کو روپیہ حاصل کرنے کا ایک گر بتاتے ہیں اور میر صاحب نے جواب دیا کہ مجھے تو رقم بتا ئیں۔میں گر حاصل نہیں کرنا چاہتا۔تو موجود اصحاب کو افسوس ہوا کہ میر صاحب نے گر کیوں نہ سن لیا۔