حیاتِ نور — Page 547
اتِ نُو ۵۴۴ تھے۔وہ بھی احباب پڑھ چکے ہیں۔ان واقعات کو دیکھ کر حضرت خلیفۃ المسیح الاول کو جو تکلیف ہوئی۔اسے ان الفاظ میں پیش کرنا کہ مولانا نورالدین صاحب آخر خدا تعالیٰ کے مامور نہ تھے۔بتقاضائے بشریت ان کے دل میں غبار آ گیا۔ان لوگوں کی ستم ظریفی نہیں تو اور کیا ہے؟ آگے لکھا ہے: انہوں نے فرمایا کہ میں عید کے دن ایک اعلان کرونگا۔چونکہ اعلان کا لفظ واضح نہ تھا۔اس لئے بعض لوگوں کو خیال ہوا کہ حضرت مولوی صاحب شاید کوئی ایسا اعلان نہ کر دیں۔جس سے انجمن کالعدم ہو جائے اور سلسلہ میں فساد پیدا ہو"۔حاشیہ میں لکھا ہے: اور فرمایا: 20 بعد کے واقعات سے پتہ چلا کہ مولانا صاحب یہ اعلان کرنا چاہتے تھے کہ انہیں انجمن کے مالی نظم و نسق سے کوئی تعلق نہیں۔گو یہ اعلان بھی سلسلہ کے لئے نقصان دہ ہوتا“۔یہ تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ حضرت کیا اعلان کرنا چاہتے تھے۔البتہ جو تقریر حضور نے اس موقعہ پر فرمائی۔اس میں ہم یہ لکھا ہوا پاتے ہیں کہ " مجھے ضرورتا کہنا پڑتا ہے۔اس کا میرے ساتھ وعدہ ہے کہ میں تمہارا ساتھ دونگا۔مجھے دوبارہ بیعت لینے کی ضرورت نہیں۔تم اپنے پہلے معاہدے پر قائم رہو۔ایسا نہ ہو کہ نفاق میں مبتلا ہو جاؤ۔میں آج کے دن ایک اور کام کرنے والا تھا۔مگر خدا تعالٰی نے مجھے روک دیا ہے۔اور میں اس کی مصلحتوں پر قربان ہوں۔میں ایسے لوگوں کو جماعت سے الگ نہیں کرتا کہ شاید وہ سمجھیں۔پھر سمجھ جائیں۔پھر سمجھ جائیں“۔حضور کے یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ اعتراضات کرنے والے لوگ تھے تو اس قابل کہ انہیں جماعت سے خارج کر دیا جائے۔مگر حضور کے رحم و کرم کی وجہ