حیاتِ نور — Page 33
یک قیمتی نکته آپ فرماتے ہیں۔جب میں اٹھنے لہا تو انہوں نے فرمایا: ”ہم ایک بات عملیات کے متعلق کہتے ہیں اُس کو سُن لو۔جب کوئی شخص تمہارے پاس کسی غرض کے لئے آئے تو تم کو چاہئے کہ تم جناب الہی کی طرف جھک جاؤ اور یوں التجا کرو کہ الہی میں نے اس کو نہیں بلایا۔تو نے خود بھیجا ہے۔جس کام کے لئے آیا ہے اگر وہ کام کرنا تجھ کو منظور نہیں تو جس گناہ کے سبب میرے لئے تو نے یہ سامان ذلت بھیجا میں اس گناہ سے تو بہ کرتا ہوں۔پھر بھی دوبارہ تمہاری اس دعا مانگنے کے بعد وہ اصرار کرے تو دوبارہ اللہ تعالیٰ کے حضور دعا مانگ کر اس کو کچھ لکھدیا کرو۔۵۰ آپ فرماتے ہیں: مجھ کو امیر شاہ صاحب کے بتائے ہوئے اس نکتہ نے آج تک بڑا فا ئدہ دیا۔مگر ان طلباء نے مطلق توجہ نہیں کی اور ان کو کچھ بھی خبر نہ ہوئی کہ انہوں نے کیا بتا دیا۔طالب علموں نے باہر نکلتے ہی کہا کہ اس کو حُب کا عمل آتا ہے جس کے باعث شاہ صاحب اس کے قابو میں آگئے اور اسی واسطے یہ ہمیشہ بڑے بڑے امیروں اور معززوں میں رہتا ہے۔رام پور کا ایک عجیب واقعہ آپ فرماتے ہیں: میں رام پور میں جن حکیم صاحب سے طب پڑھتا تھا وہ بڑے آدمی تھے۔ان کے یہاں بہت سے مہمان لکھنو وغیرہ کے پڑے رہتے تھے۔وہیں مرزار جب علی بیگ سرور مصنف ”فسانہ عجائب بھی جو بہت بوڑھے تھے ، رہتے تھے۔میں نے ایک دن اُن سے کہا کہ مرزا صاحب! مجھ کو اپنی کتاب ”فسانہ عجائب“ پڑھا دو۔میں اس کتاب کو آپ سے پڑھ کر اس کی سند لینا چاہتا ہوں۔انہوں نے کہا۔بہت اچھا۔میں نے ایک ہی دو صفحہ پڑھا تھا کہ یہ فقرہ آیا۔کہ ادھر مولوی ظہور اللہ ومولوی محمد مبین اور ادھر مولوی تقی میر محمدمجتہد وغیرہ۔میں نے اس فقرہ پر پہنچ