حیاتِ نور

by Other Authors

Page 34 of 831

حیاتِ نور — Page 34

اول کر ان سے کہا مرزا صاحب۔یہ بتاؤ کہ تم سنی کیسے ہوئے۔نہایت حیران اور متعجب ہو کر کہنے لگے کہ تم نے یہ کیسے معلوم کیا کہ میں سنی ہوں۔میں نے کہا کہ آپ کو اس سے کیا، آپ ہیں تو سنی یہ بتا دیجئے کس طرح سنی ہوئے۔انہوں نے کہا تم اول بتاؤ میرا سنی ہونا کس طرح معلوم کیا؟ میں نے کہا۔ادھر کا لفظ اپنی طرف اشارہ ہوتا ہے۔آپ نے ادھر کے ساتھ سنی مولویوں کے نام لکھے ہیں اور جب لکھا ہے اُدھر تو ادھر کے ساتھ شیعوں کے نام لکھے ہیں، دلیل اس بات کی ہے کہ تم سنی ہو سُن کر ہنس پڑے اور کہا۔لو میرے سنی ہونے کی داستان سنو۔میں لکھنو سے دنی آنے لگا تو لکھنؤ کے بادشاہ نے مجھ سے کہا کہ تم دتی جاتے ہو۔وہاں شاہ عبدالعزیز سے ضرور مل کر آنا۔میں دنی آیا اور شاہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔لیکن یہ سوچ کر کہ یہ عربی کے بہت بڑے عالم ہیں اور میں عربی جانتا نہیں۔اردو میں عربی الفاظ بھی بکثرت استعمال ہوتے ہیں۔ان کے سامنے اگر عربی کا کوئی لفظ زبان سے غلط نکلا تو یہ بہت ہی حقیر سمجھیں گے کہ یہ شاعر کیسا ہے کہ الفاظ بھی صحیح نہیں بول سکتا۔میں خاموش ہی بیٹھا رہا اور خاموش ہی اُٹھ کر چلا آیا۔دوسرے دن کچھ عبارت یاد کی کہ اس طرح گفتگو کروں گا۔اور الفاظ بہت سوچ سمجھ کر اور تحقیق کر کے صحیح صحیح یاد کر لئے۔لیکن جب وہاں گیا تو پھر یہ خیال آیا کہ اگر گفتگو بڑھی اور مجھ کو اور کچھ باتیں کرنی پڑیں تو بڑی مشکل ہوگی۔اس خیال سے پھر خاموش رہا۔غرض تین روز تک اسی طرح جاتا اور خاموش ہی اُٹھ کر واپس آتا رہا۔یہ بھی خیال تھا کہ جب لکھنو جاؤں گا تو بادشاہ دریافت کریں گے کہ دتی میں شاہ عبد العزیز صاحب سے مل کر آئے ، کیا با تیں ہوئیں۔تو کیا جواب دوں گا۔اس وجہ سے روز جاتا بھی تھا۔ایک دن شاہ صاحب نے خود ہی مجھ کو مخاطب کر کے فرمایا اور کہا میاں تم کہاں سے آئے ہو۔کیسے آئے ہو؟ میں نے کہا میں لکھنو رہتا ہوں۔انہوں نے فرمایا کہ لکھنو میں کہاں؟ میں نے کہا کہ پکے پل پر۔یہ سن کر انہوں نے فرمایا کہ ہں تم تو چاند پور کے رہنے والے ہو۔میں نے کہا کہ نہیں میں لکھنؤ رہتا ہوں۔انہوں نے فرمایا کہ ہاں لکھنؤ میں کس مقام پر ؟ میں نے کہا کہ پکے پل پر۔کچھ سوچ کر فرمایا کہ ہاں تو تم چاند پور کے رہنے والے ہو۔