حیاتِ نور

by Other Authors

Page 415 of 831

حیاتِ نور — Page 415

اب شش ۴۱۲ ۲۴ دسمبر تک اس کام کے واسطے مہلت دی تھی تو اب ۲۰ جولائی سے ۲۴ دسمبر تک مہلت ہے۔چنانچہ ہر سال امتحان کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دو تین کتابیں بطور نصاب مقرر کر دی جاتی رہیں اور احباب امتحان میں شامل ہوتے رہے۔حضور کے بعد ابتک کسی نہ کسی شکل میں امتحان کتب مسیح موعود کا سلسلہ جاری ہے۔خلافت ثانیہ کے عہد مبارک میں جماعت کی مختلف تربیتی تنظیمیں، یعنی انصار الله ، خدام الاحمدیہ، اطفال الاحمدیہ بجنہ اماءاللہ، ناصرات الاحمد یہ اپنے اپنے رنگ میں کورس مقرر کر کے امتحانات میں شامل ہو رہی ہیں اور اس طرح سے جماعت کا کثیر حصہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں سے واقفیت حاصل کرتا رہتا ہے۔فالحمد للہ علی ذلک۔مدرسہ دینیہ کے متعلق بعض ضروری تجاویز ۱۲؍ جولائی ۱۹۰۸ء مدرسہ دینیات جس کے قائم کرنے کی ایک تجویز کا ذکر ہو چکا ہے اس کو عملی جامہ پہنانے کے لئے حضرت خلیفة المسیح الاول نے ایک سب کمیٹی قائم کی جس کے سیکریٹری جناب مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے مقرر ہوئے۔مولوی صاحب موصوف نے جماعت کو یاد دہانی کراتے ہوئے لکھا کہ اس وقت تین باتیں ہیں جن کے متعلق سب کمیٹی نے غور کر کے رپورٹ کرنی ہے۔اول فراہمی سرمایہ، دوم دینی مدرسہ کی سکیم ، سوم مدرسہ کے لئے قابل ترین اساتذہ کا مہیا کرنا۔مولوی صاحب موصوف نے ان تینوں امور کے لئے احباب جماعت سے رائے طلب کی۔اور تعاون کی درخواست کی ہے اعتراضات کے جوابات جیسا کہ عام طور پر دستور ہے جب کوئی نبی فوت ہو جاتا ہے تو معترضین اعتراضات شروع کر دیتے ہیں کہ فلاں پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔فلاں کام نا تمام رہ گیا۔فلاں مقصد پورا نہیں ہوا۔اس سنت مستمرہ کے ماتحت ضروری تھا کہ حضرت مسیح موعود کے وصال کے بعد اس قسم کے اعتراضات کئے جاتے۔چنانچہ معترضین نے ایسے اعتراضات کئے۔مشاہ پیشگوئی متعلق مرزا احمد بیگ وغیرہ۔مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ ، ڈاکٹر عبد الحکیم کے متعلق پیشگوئی، اور جوابات دینے والوں نے روح القدس سے قوت پا کر خوب جوابات دئیے۔خود حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے بھی وفات مسیح موعود کے زیر عنوان ایک رسالہ شائع فرمایا جس میں مخالفین کے تمام اعتراضات کے بصیرت افروز ـور