حیاتِ نور — Page 331
ـور ۳۲۹ حضرت کی وفات کے بعد ساری دُنیا جسم بلاروح محسوس ہوتی ہے۔حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب کا بیان ہے کہ ۲۷ مئی ۱۹۰۸ ء کو جب خواجہ صاحب شیخ رحمتہ اللہ صاحب ، ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب اور ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب وغیرہ قادیان آئے۔سخت گرمی کے دن تھے۔ان کی خدمت تواضع اور ناشتہ پانی وغیرہ کا انتظام میرے ذمہ لگایا گیا۔چنانچہ میں مناسب طریق پر کہہ سن کر ان سب کو باغ سے شہر میں لے آیا۔حضرت نواب صاحب کے مکان کے نچلے حصے کے جنوب مغربی دالان میں بٹھایا اور موقعہ محل کے مناسب حال ان کی تواضع کی۔اس موقعہ پر خواجہ کمال الدین صاحب نے کھڑے ہو کر نہایت پرسوز تقریر کی۔جس کا خلاصہ یہ تھا کہ خدا کی طرف سے ایک انسان منادی بن کر آیا جس نے لوگوں کو خدا کے نام پر بلایا۔ہم نے اس کی آواز پر لبیک کہی اور اس کے گرد جمع ہو گئے مگر اب وہ ہم کو چھوڑ کر اپنے خدا کے پاس چلا گیا ہے۔سوال یہ ہے کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہئے۔خواجہ صاحب کا انداز بیان، طریق خطاب اور تقریر کچھ ایسی درد بھری، رقت آمیز اور زہرہ گداز تھی کہ ساری مجلس پر ایک سنانا چھا گیا۔سکتہ کا عالم اور خاموشی طاری ہو گئی۔آخر شیخ رحمت اللہ صاحب نے سکوت تو ڑا۔اور کھڑے ہو کر ٹھیٹھ پنجابی زبان میں جو کچھ فرمایا۔اس کا خلاصہ مطلب اردو میں یہ ہے کہ میں نے قادیان آتے ہوئے رستہ میں بھی بار بار یہی کہا ہے اور اب بھی دوہراتا ہوں کہ اس بڑھے (یعنی حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب) کو آگے کرو۔اس کے سوا یہ جماعت قائم نہ رہ سکے گی۔شیخ صاحب کے اس بیان پر خاموش رہ کر گویا سبھی نے مہر تصدیق ثبت کی۔اور سر تسلیم خم کیا۔کسی نے انکار کیا نہ اعتراض“۔حضرت نواب محمد علی خاں صاحب نے اپنی ڈائری میں حضرت مولوی صاحب کے انتخاب خلافت کے بارے میں اہلبیت کی رائے کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ میاں محمود صاحب نے بھی کشادہ پیشانی ( سے ) اس امر پر رضامندی ظاہر کی