حیاتِ نور — Page 332
۳۳۰ بلکہ (کہا) کہ حضرت مولانا سے بڑھ کر کوئی نہیں اور خلیفہ ضرور ہونا چاہئے اور حضرت مولانا ہی خلیفہ ہونے چاہئیں ورنہ اختلاف کا اندیشہ ہے اور حضرت اقدس کا ایک الہام ہے کہ اس جماعت کے دو گروہ ہوں گے۔ایک کی طرف خدا ہوگا اور یہ پھوٹ کا ثمرہ ( ہے اس کے بعد ہم باغ میں گئے اور وہاں میر ناصر نواب صاحب (خسر حضرت مسیح موعود ) سے دریافت کیا۔انہوں نے بھی حضرت مولانا کا خلیفہ ہونا پسند کیا پھر خواجہ کمال الدین) صاحب جماعت کی طرف سے حضرت ام المومنین کے پاس تشریف لے گئے۔انہوں نے کہا میں کسی کی محتاج نہیں * اور نہ محتاج رہنا چاہتی ہوں۔جس پر قوم کا اطمینان ہے، اس کو خلیفہ کیا جائے اور حضرت مولانا کی سب کے دل میں عزت ہے۔وہی خلیفہ ہونا چاہئے۔حضرت مولوی محمد احسن صاحب کی رائے اوپر گزر چکی ہے کہ آپ نے سب سے پہلے حضرت مولوی صاحب کو کہا تھا کہ آپ صدیق ہیں۔قادیان پہنچ کر آپ نے حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں ایک خط بھی لکھا جس میں حضرت مولوی صاحب کی خدمات دینیہ ، حضرت اقدس اور جماعت کے ساتھ آپ کا اخلاص اور روحانی مقام کا ذکر کرتے ہوئے آپ کو صدیق ثانی قرار دیا۔۔حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی لکھتے ہیں کہ اس اتفاق (جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ناقل ) کے بعد انہی اصحاب (یعنی سر کردہ اصحاب غیر مبائعین۔ناقل ) نے معہ دیگر اکابر صحابہ و بزرگانِ جماعت سید نا حضرت مولوی نورالدین صاحب کے حضور درخواست کی جو باغ سے شہر تشریف لائے ہوئے تھے مگر حضرت ممدوح نے کچھ سوچ اور تردد کے بعد فرمایا کہ میں دعا کے بعد جواب دونگا۔چنانچہ وہیں پانی منگوایا گیا۔حضرت نے وضو کر کے دو نفل نماز ادا کی اور دعاؤں کے بعد فارغ ہو کر فرمایا: چلو ہم سب وہیں چلیں جہاں ہمارے آقا کا جسد اطہر اور ہمارے بھائی انتظار میں ہیں۔چنانچہ یہ مجلس برخواست ہو کر پھر باغ پہنچی تو سب سے پہلے تمام حاضر یعنی میں کسی کی بفضل محتاج نہیں ہوں۔اس لئے میں اپنے کسی ذاتی فائدہ کی غرض سے رائے نہیں دوں گی بلکہ میرے نزدیک جسے جماعت منتخب کرے وہی خلیفہ ہونا چاہئے اور حضرت مولوی صاحب اس کے اہل بھی ہیں