حیاتِ نور

by Other Authors

Page 274 of 831

حیاتِ نور — Page 274

سور سلام ۲۷ میں حیدر آباد دکن میں قریباً تیرہ برس تک رہا اور وہاں ٹھیکیداری کا کام کرتا رہا ہوں۔میرے حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کے ساتھ بڑے گہرے تعلقات تھے اور ہم دونوں مدت تک اکٹھے رہتے رہے۔ایک دفعہ حضرت عرفانی صاحب نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام گورداسپور ایک مقدمہ کے سلسلہ میں گئے ہوئے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وہاں سے کہلا بھیجا کہ حضرت مولوی نورالدین صاحب اور شیخ یعقوب علی صاحب فوراً پہنچ جائیں۔چنانچہ میں اور حضرت مولوی صاحب دو بجے بعد دو پہر یکہ پر بیٹھ کر بٹالہ کی طرف چلے پڑے۔شیخ صاحب نے مجھے کہا کہ اس وقت میرے دل میں خیال آیا کہ حضرت مولوی صاحب کہا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا میرے ساتھ وعدہ ہے کہ میں اگر کہیں جنگل بیابان میں بھی ہوں تب بھی خدا تعالیٰ مجھے رزق پہنچائے گا اور میں کبھی بھوکا نہیں رہونگا ہے۔آج ہم بے وقت چلے نہیں پتہ لگ جائے گا کہ رات کو ان کے کھانا کا کیا انتظام ہوتا ہے۔بٹالہ میں مقامی جماعت کی طرف سے ایک مکان بطور مہمانخانہ ہوا کرتا تھا۔اس میں ہم دونوں چلے گئے۔حضرت مولوی صاحب وہاں ایک چارپائی پر لیٹ گئے اور کتاب پڑھنے لگ گئے۔اس وقت انداز انشام کے چھ بجے کا وقت ہوگا۔اچانک ایک اجنبی شخص آیا اور کہنے لگا۔میں نے سنا ہے کہ آج مولوی نورالدین صاحب یہاں آئے ہوئے ہیں، وہ کہاں ہیں؟ میں نے کہا وہ یہ لیٹے ہوئے ہیں۔کہنے لگا۔حضور! میری ایک عرض ہے آج شام کی دعوت میرے ہاں قبول فرمائیے۔میں ریلوے میں ٹھیکیداری کرتا ہوں اور میری بیلسٹ ٹرین کھڑی ہوئی ہے اور میں نے امرتسر جانا ہے۔میرا ملازم حضور کے لئے کھانا لے آئے گا۔حضرت مولوی صاحب نے فرمایا۔بہت اچھا۔چنانچہ شام کے وقت اس کا ملازم بڑا پر تکلف کھانا لے کر حاضر ہوا۔اور ہم دونوں نے سیر ہو کر کھا لیا۔شیخ صاحب کہنے لگے۔میرے دل میں خیال آیا کہ ان کی بات تو صحیح ہو گئی اور انہیں خدا نے واقعہ میں کھانا بھیجوا دیا۔چونکہ گاڑی رات دس بجے کے بعد چلتی تھی۔میں نے حضرت مولوی صاحب