حیاتِ نور — Page 273
۲۷۳ قادیان آنیوالوں کو نصیحت آپ ہر دم اس فکر میں رہتے تھے کہ قادیان آنیوالے دوست حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کے انفاس قدسیہ سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا ئیں۔اور کمزور لوگوں کی کمزوری کو دیکھ کر ٹھوکر نہ کھائیں۔اپنے وعظ و نصیحت اور خطبات کے دوران میں بھی آپ اس امر کی تلقین فرماتے رہتے تھے۔چنانچہ ۲۲ جنوری ۱۹۰۳ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا: میں یہاں کس لئے آیا ہوں۔دیکھو بھیرہ میں میرا پختہ مکان ہے اور یہاں میں نے کچے مکان بنوائے اور ہر طرح کی آسائش مجھے یہاں سے زیادہ وہاں مل سکتی تھی۔مگر میں نے دیکھا کہ میں بیمار ہوں اور بہت بیمار ہوں محتاج ہوں اور بہت محتاج ہوں۔لاچار ہوں اور بہت لاچار ہوں۔پس میں اپنے ان دکھوں کے دور کرنے کے لئے یہاں ہوں۔اگر کوئی شخص قادیان اس لئے آتا ہے کہ وہ میرانمونہ دیکھے یا یہاں آ کر یا کچھ عرصہ رہ کر یہاں کے لوگوں کی شکایتیں کرے تو یہ اس کی غلطی ہے اور اس کی نظر دھو کہ کھاتی ہے کہ وہ بیماروں کو تندرست خیال کر کے ان کا امتحان لیتا ہے۔یہاں کی دوستی اور تعلقات، یہاں کا آنا اور یہاں سے جانا اور یہاں کی بودو باش سب کچھ لا الہ الا اللہ کے ماتحت ہونی چاہئے ورنہ اگر روٹیوں اور چار پائیوں وغیرہ کے لئے آتے ہو تو بابا تم میں سے اکثر کے گھر میں اچھی روٹیاں وغیرہ موجود ہیں۔پھر یہاں آنے کی ضرورت کیا ؟ تم اس اقرار کے قائل ٹھیک ٹھیک اسی وقت ہو سکتے ہو۔جب تمہارے سب کام خدا کے لئے ہوں“۔اللہ تعالیٰ کا آپ سے وعدہ حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب جب ۲-۱۹۰۳ء میں مولوی کرم دین صاحب والے مقدمہ کے سلسلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ گورداسپور تشریف لیجایا کرتے تھے تو انہی ایام کا ایک واقعہ مکرم ملک بشیر علی صاحب کنجاہی حال ربوہ نے یوں بیان کیا کہ محترم ملک صاحب فرماتے ہیں کہ ملک غلام فرید صاحب ایم۔اے اور خاکسار قادیان میں پڑھا کرتے تھے میرے والد ملک فیروز الدین صاحب ان دونوں نا گدہ تظھر ایکشن میں ٹھیکیداری کرتے تھے 1910ء میں ہمیں دیکھنے کے لئے قادیان تشریف لائے اور حضرت خلیفقہ اسی اول کو دیکھتے ہی بیعت پر آمادہ ہو گئے اور بیعت کرلی ـور