حیاتِ نور

by Other Authors

Page 72 of 831

حیاتِ نور — Page 72

اب دوم محال ہوگا۔اس کے بعد ایک دن جبکہ آپ اپنے مکان سے اتر رہے تھے کہ حضرت مولانا حکیم فضل دین صاحب گھبرائے ہوئے تشریف لائے اور کہا کہ اذان کی دُعا کس طرح ہے؟ آپ نے حسب معمول وہ دُعائنا دی۔انہوں نے کہا۔یہ کہاں لکھی ہے؟ آپ نے فرمایا کبیری شرح منیہ اور لا اور لمعات شرح مشکوۃ شیخ عبد الحق محدث دہلوی میں۔ابھی آپ حضرت حکیم صاحب موصوف سے باتیں ہی کر رہے تھے۔کہ ایک شخص نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ حضرت پیر صاحب کی بی بی سخت بیمار ہیں آپ وہاں چل کر اُن کو دیکھ لیں۔آپ پیر صاحب کی بڑی عزت کیا کرتے تھے۔اس واسطے بلا تکلف اس کے ساتھ چل پڑے۔جب زنانخانہ کے قریب پہنچے تو وہ شخص بھی غائب ہو گیا۔اب آپ حیران تھے کہ زنا نخانہ میں جائیں تو کس طرح؟ ساتھ کوئی آدمی تو ہے نہیں۔دوسری طرف مردانہ کو بیسیوں آدمی جا رہے تھے۔اس وقت آپ کو یقین ہو گیا کہ مجھے فریب سے کسی دوسری غرض کے لئے تیلا یا گیا ہے۔اب واپس جانے کی بھی کوئی صورت نظر نہ آتی تھی۔اس لئے آپ بھی مردانہ کی طرف تشریف لے گئے۔وہاں جا کر کیا دیکھتے ہیں کہ پیر صاحب اپنے دونوں پاؤں کو ایک بڑی چارپائی کے دونوں طرف رکھے ہوئے چت لیٹے ہوئے ہیں اور ایک عالم شخص جس کے علم اور تقدس اور نیکی کے آپ بڑے معتقد تھے، ان پڑھ پیر صاحب کے پاؤں پر ماتھا رکھے ہوئے اور ہاتھ سے اُن کا پاؤں دبائے ہوئے بیٹھے ہیں۔آپ یہ نظارہ دیکھ کر بیتاب ہو گئے اور کراہت سے پیر صاحب کی طرف متوجہ ہو کر کہا کہ آپ کی بیوی بیمار ہے۔چلئے میں اسے دیکھ لوں۔انہوں نے کہا۔پہلے آپ سے ایک ضروری مسئلہ کے متعلق کچھ دریافت کرنا ہے۔آپ نے فرمایا۔آپ تو پیر ہیں، پیروں کو مسائل سے کیا تعلق؟ ابھی آپ کھڑے ہی تھے۔کہ انہوں نے دوبارہ اصرار کیا۔ساتھ ہی وہ یہ بھی تاڑ گئے کہ یہ زمین پر تو بیٹھیں گے نہیں۔فورا کہا کہ اوہو! علماء تو سب نیچے بیٹھے ہیں اور یہ رسول کے جانشین ہیں۔ہمارے نوکروں نے بڑی غلطی کی کہ ہمارے لئے چارپائی بچھائی۔یہ کہہ کر و کر کو بلایا اور کہا کہ فورا چار پائی باہر نکالو۔ہم بھی نیچے بیٹھیں گے۔جب پیر صاحب نیچے بیٹھ گئے تو آپ نے فرمایا۔بتائیے کیا مسئلہ ہے؟ ابھی انہوں نے جواب نہیں دیا تھا کہ آپ نے اصل محرک مولوی صاحب کے ہاتھ میں ایک کتاب دیکھی جس میں اس نے ایک جگہ اپنی انگلی رکھی ہوئی تھی۔آپ نے یہ سمجھ کر کہ کوئی ایسا مسئلہ ہوگا جس کا اس کتاب میں ذکر ہے۔وہ کتاب پکڑ لی اور فرمایا کہ بھائی صاحب ! یہ کیا کتاب ہے؟ مولوی صاحب نے بڑے غضب سے کہا کہ آپ میرے بھائی نہیں ہیں۔آپ نے فرمایا۔ناراض ہونے کی کوئی بات