حیاتِ نور — Page 71
ایک پیر صاحب کا آپ کو فریب سے بُلا نا اور خدائی تصرف ایک مرتبہ آپ اپنی مسجد میں مشکوۃ شریف پڑھا رہے تھے کہ اذان سننے کے بعد کے کلمات کا ذکر ہوا جو یہ تھے کہ اللهُم رَبَّ هَذِهِ الدَّعوة الامة والصلوة القائمة ان محمدي الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَاماً مَحْمُود الذِي وَعَدْتَهُ حَلَّتْ لَهُ شَفَاعَتِي ایک شخص عبدالعزیز پشاوری نے جب یہ دعاسنی تو کہا کہ یہ الفاظ مجھے لکھدیں۔آپ نے لوہے کے قلم یعنی ہولڈر سے وہ الفاظ لکھ دیئے۔وہ موٹا اور خوشخط لکھوانے کے لئے ایک کا تب بنام محمد دین کے پاس پہنچا۔محمد دین وہ کاغذ لے کر سیدھا اس دشمن بخاری کے پاس گیا۔جس کا اوپر ذکر ہو چکا ہے اور کہا کہ اس شخص نے وَارْزُقْنَا شَفَاعَتَہ کے الفاظ عمد ا چھوڑ دیئے ہیں۔مولوی صاحب نے نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ، بالکل مقابلہ کے لئے تیار ہو گئے۔وہ ابھی کچھ منصوبوں ہی میں تھے کہ ایک روز صبح کے وقت ایک سید صاحب اور ایک متولی صاحب دونوں آپ کی ملاقات کے لئے تشریف لائے۔اور رکوع اور قومہ میں رفع یدین کرنے والوں کے بارہ میں سوال کیا۔آپ فرماتے ہیں کہ میں نے اس وقت کمزوری سے کام لیا اور اُن سے کہا کہ پہلے پتہ لگایا جائے اور ان رفع یدین کرنے والوں سے پوچھا جائے کہ وہ شیعہ ہیں یاسنی اور سنیوں میں وہ شافعی ہیں یا حنبلی۔اگر اس قسم کے لوگ ہوں تو اُن کے مذہب میں رفع یدین ثابت ہے۔ہاں اگر وہ حنفی مذہب کے مقلد ہیں تو پھر اُن کے متعلق مناسب فتویٰ دیا جا سکتا ہے۔سید صاحب نے اس فتوے کو بہت پسند کیا اور دونوں واپس چلے گئے۔ابھی وہ سیڑھیوں سے اُترے ہی تھے کہ وہ مولوی صاحب جو بخاری سے ناراض اور دعائے شفاعت پر گھبرائے ہوئے تھے پاس سے گزرے اور شاہ صاحب سے پو چھا کہ آپ یہاں کس طرح آئے تھے۔انہوں نے ساری حقیقت کہہ سُنائی۔مولوی صاحب نے کہا آپ اُن سے یہ دریافت کریں کہ آپ کے نزدیک رفع یدین کا کیا حکم ہے؟ چنانچہ وہ واپس لوٹے اور کھڑے کھڑے ہی یہ سوال کر دیا۔اس وقت آپ نے اپنے پہلے جواب پر افسوس کیا اور جرات سے فرمایا کہ "میرے نزدیک رفع یدین کرنا جائز ہے۔اس پر انہوں نے کہا کہ اگر آپ کا ایسا خیال ہے تو آپ کا اس ملک میں یا کم سے کم اس شہر میں رہنا