حیاتِ نور — Page 69
ـاتِ نُـ ایک انگلی اس لاٹ پر رکھدی۔مگر بھلا اس آگ کی برداشت کیسے ہو سکتی تھی۔ابھی بمشکل ایک لحظہ ہی گزرا ہوگا کہ فورا انگلی واپس کھینچ لی۔اور یہ خیال کر کے کہ جب میں اس معمولی سی آگ کو برداشت نہیں کر سکتا تو جہنم کی آگ کو جو اس سے ستر گنا شدت میں زیادہ ہوگی، کیسے برداشت کر سکوں گا ، پھر مطالعہ میں مصروف ہو گیا۔مگر ابھی تھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ شیطان نے پھر اس کے دل میں بدی کی تحریک کی مگر فرشتہ بھی اس کی نیک فطرت سے واقف تھا۔اس نے پھر رکاوٹ ڈالی اور اُسے مجبور کیا کہ اگر پہلے تجربہ سے سبق حاصل نہیں ہوا تو پھر دیے کی لاٹ پر انگلی رکھ کر دیکھ لو۔اگر برداشت کر گئے تو پھر اس خیال کو دل میں لانا۔ورنہ خدا سے ڈرو۔چنانچہ اس مرتبہ اس نے دوسری انگلی دیئے کی لاٹ پر رکھی مگر بھلا آگ کی برداشت کیسے ہو سکتی تھی فورا ہاتھ واپس کھینچنا پڑا۔اور پھر مطالعہ میں مصروف ہو گیا۔غرض یہ نیکی اور بدی کی کشمکش رات بھر جاری رہی اور اس نوجوان نے اپنے نفس کو بدی کے ارتکاب سے روکنے کے لئے اپنے دونوں ہاتھوں کی دسوں انگلیاں جلادیں۔خدا خدا کر کے رات گزری۔فجر کی اذان ہوئی۔نمازی آئے اور وہ لڑکی اپنے گھر پہنچادی گئی۔والد کو جب اپنی لڑکی کی زبانی اس لڑکے کی حرکات کا علم ہوا تو اس نے اپنے جلیل القدر مہمان حضرت خلیفتہ اسی الاول کی خدمت میں اس کا ذکر کیا۔آپ نے فرمایا۔اس لڑکے کو بٹھا کر اس سے دریافت کرنا چاہئے کہ اُس نے اپنی دسوں انگلیاں کیوں جلائیں ؟ لڑکے سے جب پوچھا گیا تو اس نے سارا ماجرا کہہ سُنایا۔حضرت مولانا نے اس صالح نوجوان طالب علم کی سرگذشت سُن کر اس امیر میزبان کو مشورہ دیا کہ یہیڑ کا اس امر کا مستحق ہے کہ تم اس بچی کی شادی اس سے کردو۔امیر بولا۔حضرت مولوی صاحب ! میں اس لڑکے کے ساتھ اپنی بچی کا رشتہ کر تو دوں مگر آپ کو علم ہے کہ یہ بچی ناز و نعمت سے پروان چڑھی ہے اور یہ لڑکا بالکل غریب اور نادار ہے۔اُن کا آپس میں نباہ کیسے ہوگا؟ اور پھر برادری مجھے کیا کہے گی؟ اور بچی پر کیا گزرے گی جب وہ ایک یتیم اور غریب لڑکے کے گھر جا کر ساری عمر غربت اور افلاس کا شکار ہی رہے گی؟ آپ نے فرمایا۔میرے مہربان دوست اس کا حل تو بالکل آسان ہے۔آپ کو خدا تعالیٰ نے صاحب جائداد بنایا ہے۔دولت سے بھی وافر حصہ عطا فرمایا ہے۔آپ دس ہزار روپیہ کی اُسے امداد دے کر اُسے بھی امیر بناسکتے ہیں۔مگر ایسا امیر آپکو کوئی نہیں لے گا جو اس جیسا نیک ہو۔وہ امیر بھی نیک اور دیندار آدمی تھا۔اس نے حضرت خلیفہ المسیح الاول کے فرمان کے مطابق اس بچی کا رشتہ اس لڑکے کے ساتھ کر دیا اور لڑکے کو اپنے پاس ہی رکھ لیا۔اور وہ خوش نصیب جوڑا خوشی اور انبساط کی زندگی بسر کرنے لگا۔اللہ تعالیٰ نے اس لڑکے کو آخرت میں جو اجر دیتا تھا