حیاتِ نور

by Other Authors

Page 68 of 831

حیاتِ نور — Page 68

۶۸ میں بھی شہر کے معزز گھرانوں کی نوجوان لڑکیاں مغرب سے ذرا پیشتر سیر کے لئے دریائے راوی پر جایا کرتی تھیں۔ایک مرتبہ جو گئیں تو سخت آندھی اور بارش کے طوفان نے انہیں ایک دوسرے سے جدا کر دیا۔ان لڑکیوں میں اس رئیس کی لڑکی بھی تھی جس کے ہاں حضرت حکیم الامت قیام فرما تھے۔وہ لڑکی پھرتی پھراتی کسی نہ کسی طرح شاہی مسجد میں پہنچ گئی۔عشاء کی نماز ہو چکی تھی۔لوگ اپنے اپنے گھروں میں جا چکے تھے۔دینیات کے طلبہ جو اُس زمانہ میں مسجد کے حجروں میں رہا کرتے تھے اپنے اپنے والدین کے ہاں گرمی کی رخصتیں گزارنے گئے ہوئے تھے مگر ایک یتیم لڑکا جو غریب اور نا دار بھی تھا باہر کوئی ٹھکانہ نہ ہونے کی وجہ سے مسجد کے حجرہ ہی میں رہنے پر مجبور تھا۔وہ صف پر بیٹھا ہوا مٹی کا دیا جلا کر مصروف مطالعہ تھا کہ وہ لڑکی اس کے پاس گئی اور بتایا کہ میں فلاں رئیس کی لڑکی ہوں۔مجھے اپنے گھر کا راستہ نہیں آتا۔اگر تم مجھے میرے گھر پہنچا دو تو تمہاری بڑی مہربانی ہوگی۔اس لڑکے نے کہا۔بی بی ! میں طالبعلم ہوں اور باہر سے آیا ہوا ہوں۔اپنے کام میں مصروف رہنے کی وجہ سے مجھے شہر میں گھومنے کا بہت کم موقع ملتا ہے اور آپ کے والد محترم کو تو میں بالکل نہیں جانتا۔اس لئے افسوس ہے کہ میں اس معاملہ میں آپ کی کوئی امداد نہیں کر سکتا۔اب وہ لڑکی پریشانی کے عالم میں سوچنے لگی کہ اندھیری رات ہے اور ہو کا عالم ! بارش بھی تھمنے میں نہیں آتی۔جائے تو کہاں جائے! اس کی یہ حالت دیکھ کر اس شریف لڑکے نے کہا۔بی بی ! فکر نہ کرو۔چند گھنٹے رات باقی رہ گئی ہے۔میں تو مصروف مطالعہ ہوں۔آپ میری چارپائی پر سو جائے۔نماز فجر کے لئے لوگ آئیں گے جو شخص آپ کے ابا کو جانتا ہوگا اس کے ساتھ آپ گھر چلی جائیں۔اس لڑکی کی حالت یہ تھی کہ نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن مجبورا اس غریب طالب علم کی چار پائی پر اُسے لیٹنا پڑا۔غریب طالب علم کا میلا کچھیلا بستر اجنبی نوجوان لڑکے کی موجودگی ! والدین کے فکر کا تصور اور گھر سے پہلی مرتبہ غیر حاضری ! یہ ساری چیزیں ایسی تھیں جن کی وجہ سے نیند اس کے قریب بھی نہیں پھونک سکتی تھی۔وہ تو ایک ایک منٹ گن گن کر گزار رہی تھی۔ادھر اس لڑکے کا حال سنیئے۔جونہی اس قبول صورت امیر زادی پر اس کی نگاہ پڑی۔شیطان نے اس کے شہوانی قوئی میں ایک تلاطم برپا کر دیا۔مگر تھا وہ نیک اور خدا تعالیٰ سے ڈرنے والا۔اس نے سوچا کہ اس بُرے راستہ کو اگر میں نے اختیار کر لیا تو پھر خدا تعالیٰ کو کیا جواب دوں گا ؟ مزید برآں جہنم کی آگ بھی برداشت کرنا پڑے گی۔کیا میرے اندر یہ طاقت موجود ہے کہ میں جہنم کی آگ برداشت کرسکون؟ یہ وہ باتیں تھیں کہ جن کے سوچنے میں وہ مو تھا۔معا اس کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ اس دیئے کی لاٹ پر ذرا انگلی رکھ کر تو دیکھوں کیا میں اُسے برداشت کر سکتا ہوں؟ چنانچہ اس نے فوراً اپنی