حیاتِ نور

by Other Authors

Page 742 of 831

حیاتِ نور — Page 742

ـور ۷۳۷ کہیں۔ان کے متعلق آپ کا کیا فتویٰ ہے؟ ڈاکٹر صاحب نے کہا وہ بھی کافر ہیں کیونکہ وہ کافروں کو مسلمان کہتے ہیں۔اس پر میں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب اب ان مسلمانوں سے (ان پٹھانوں کے طرف اشارہ کر کے پوچھ لیجئے کہ یہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کو کیا سمجھتے ہیں؟ میرا اتنا کہنا تھا کہ وہ سارے پٹھان ڈاکٹر صاحب پر برس پڑے اور کہنے لگے۔ڈاکٹر صاحب یہ لوگ آپ لوگوں سے ہزار درجے اچھے ہیں کیونکہ ان میں منافقت نہیں لیکن آپ لوگ سخت دھوکہ باز ہیں کیونکہ ہمیں سمجھتے کا فر ہیں لیکن کہتے مسلمان ہیں کتنا سخت دھوکا ہے اس پر ڈاکٹر صاحب بہت کھسیانے ہوئے۔اور مناظرہ چند منٹوں میں ہی ختم ہو گیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ محترم مولانا ابو العطاء صاحب کے اس معقول اور مدلل جواب کا جناب ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب پر اس قدراثر ہوا کہ وہ مولانا کا بہت ادب و احترام کرنے لگ گئے۔چنانچہ اس واقعہ کے پانچ چھ سال بعد جب ایک مرتبہ ۱۹۳۱ء میں مجھے بھی محترم مولانا صاحب کی معیت میں ڈیڑھ ماہ مری میں رہنے کا موقعہ ملاتو پہلی ملاقات پر ہی جناب ڈاکٹر صاحب نے مولانا کو اپنی کوٹھی پر چائے کی دعوت دی۔اور آپ کی بہت تعریف کی۔فالحمد للہ علی ذالک۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مکفرین و مکذبین کو مسلمان کہنا بھی ظاہر بین نگاہوں کو فریب دینا ہی ہے ورنہ حقیقت یہی ہے کہ خود غیر مباکین بھی ان کو مسلمان نہیں سمجھتے جیسا کہ اوپر کے واقعہ سے ظاہر ہے۔اور اگر آج غیر احمدی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مسلمان تسلیم کر لیں۔اور حضور کے واضح اور صریح نشانات کی تکذیب نہ کریں اور آپ پر کفر کا فتویٰ لگانے والوں کو کا فر قرار دے دیں تو ہم بھی انہیں مسلمان سمجھ لیں گے۔مگر یادر ہے کہ اس ساری بحث میں مسلمان سے مراد حقیقی مسلمان ہے ورنہ ظاہری لحاظ سے جو شخص بھی اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے ہمیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ ہم اسے کافر کہیں۔ہم ہر مسلمان کہلانے والے کو عرف عام میں مسلمان ہی کہیں گے لیکن اگر کوئی شخص یا قوم ہمارے امام و پیشوا حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ الصلوٰۃ والسلام کو کافر کہے اور ہم سے یہ توقع رکھے کہ ہم انہیں مسلمان کہیں تو یہ توقع عبث ہوگی۔پس مسئلہ کفر و اسلام کو بھی غیر مبالعین نے ہمارے خلاف محض نفرت پھیلانے اور اپنے آپ کو غیروں میں ہر دلعزیز بنانے کا ذریعہ بنایا ہوا ہے ورنہ مذہب ان کا بھی یہی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے منکر اور مکذب کا فر ہیں۔باقی رہا مولوی محمد علی صاحب کا یہ کہنا کہ مسلمانوں کو کافر کہنے والا شخص ہر گز متقی نہیں کہلا سکتا۔لہذا