حیاتِ نور

by Other Authors

Page 726 of 831

حیاتِ نور — Page 726

ـور ۷۲۱ ادھر ادھر ٹہلتے پھرتے تھے میں نے کسی سے پوچھا نہ ہی کسی نے بتایا کہ وہ کیا تھا۔میرا دل اس صدمہ کی وجہ سے دلگیر اور رنجور تھا۔کسی سے بات چیت کرنے کی بجائے گوشئہ خلوت کی خواہش و تلاش تھی جہاں علیحدہ بیٹھا دعا نہیں کروں اور پیش آمدہ حالات کے لئے اپنے خدا سے راہنمائی و مدد مانگوں۔فتنے بہت تھے ، جھگڑے خطرناک ، حالات نازک۔جن کے خیال سے پریشانی بہت ہی کچھ بڑھی ہوئی تھی اور آنے والے مرحلہ کی فکر میں دل بیٹھا جارہا تھا۔اتنے میں شمال اور جنوب سے آنے والی گاڑیاں آئیں اور لاہور کے دوست بھی آن پہنچے۔ہر طرف اس ٹریکٹ کا چرچا ، بحث مباحثہ ، حیص بیص اور شور و غوغا تھا۔بیرونجات سے آنے والے دوست ٹریکٹ کو پڑھ اور اس مضمون سے آگاہ ہو کر آ رہے تھے مگر لاہور والے اکثر ا بھی اس کے پڑھنے میں مشغول تھے۔اس گرما گرمی نے میری توجہ کو اپنی طرف کھینچا اور آخر ایک کاپی اس ٹریکٹ کی میرے ہاتھ پڑ گئی۔جسے لیکر پڑھنا شروع کیا۔پڑھا اور حقیقت حال سے آگاہی پائی اور بیساختہ دل سے انا للہ وانا الیہ راجعون کی صدا بلند ہوئی۔مصیبت پر مصیبت، اور اس نئے فتنہ کے درد میں سر کو پیٹ لیا۔اور نیم جان ہو کر ایک طرف بیٹھا کسی گہری سوچ میں پڑ گیا۔چھ سال قبل بھی قریبا انہی حالات میں اسی گاڑی سے سفر کرنے کا مجھے موقعہ ملا تھا۔مگر اس وقت اور اس سفر کے حالات میں زمین و آسمان کا فرق اور بعد المشرقین تھا۔اس میں ہم سب پر ایک اداسی تھی جس نے چھا کر ہم سب کو اپنے دامن میں لپیٹا ہوا تھا۔رقیت تھی جس کے باعث ہر دل پکھل کر موم بلکہ خون بن کر بہے جار ہا تھا۔انا بت تھی۔تضرع اور ابتہال تھا۔جس سے دل آستانہ الوہیت پر گرے اور نصرت و مدد، دستگیری و راہنمائی کے لئے چلا اور فریاد کر رہے تھے۔عجز و نیاز ، ذکر و اذکار اور خشوع و خضوع کی وجہ سے وہ قافلہ گو یا ملائکہ کی مجلس اور کروبیوں کا مجمع معلوم ہوتا تھا جوحمد وثنا اور تسبیح و تحمید میں مشغول ، تو حید اور جمال و جلال الہی کے گیت گا تا جار ہا تھا مگر بر خلاف اس کے ہمارے اس سفر کا نقشہ اپنے جنگ و جدال، لڑائی جھگڑے، تو تو ، میں میں، بحث مباحثے اور فتنہ وفساد کی وجہ سے میدان کارزار کا سماں پیش کر رہا