حیاتِ نور

by Other Authors

Page 677 of 831

حیاتِ نور — Page 677

کبھی معلوم نہیں کیا کہ میرا کیا قصور تھا۔سوائے اس کے کہ میں مسیح موعود کا بیٹا تھا۔کیونکہ اور بہت سے لوگ موجود ہیں۔ان پر یہ الزام نہیں لگائے گئے اور لاکھوں احمدیوں کے سر پر یہ بوجھ نہیں رکھا گیا۔مگر یہ قصور میرا نہیں۔اس کی نسبت خدا سے سوال کرو۔اگر یہ کوئی قصور تھا۔تو اس کا فاعل خدا ہے نہ میں۔میں خود مسیح موعود کے ہاں پیدا نہیں ہوا۔مجھے میرے مولیٰ نے جہاں بھیج دیا۔میں آ گیا۔پس خدا کے لئے مجھے اس فعل پر دکھ نہ دو۔اس واقعہ کی بناء پر مجھے مت ستاؤ جو میرے اختیار سے باہر ہے۔جس میں میرا کوئی دخل نہیں۔غرض کہ ان مشکلات میں اپنے مولی کے سوا میں نے کسی پر توکل نہیں کیا اور اپنے دل کے دکھوں پر اس کے سوا کسی کو آگاہ نہیں کیا اور گومیر ادل ایک پھوڑے کی طرح بھرا ہوا تھا۔مگر سوائے کبھی کبھی اپنی نظموں میں بے اختیار ہو کر اشارة اپنے دکھ کے اظہار کے کبھی اپنے دکھ کا اظہار نہیں کیا۔" مجھے ہمیشہ تعجب آتا رہا ہے کہ لوگ اس قدر بدظنیوں سے کیوں کام لیتے ہیں۔مجھ سے تو اس معاملہ پر اگر کسی دوست نے گفتگو کرنی چاہی تو ہمیشہ میں نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ کیا یہ لوگ جانتے ہیں کہ میں کب تک زندہ رہوں گا۔مگر افسوس کہ ظلم میں کمی ہونے کی بجائے وہ اور ترقی کرتا گیا حتی کہ اب وہ اپنے کمال پر پہنچ گیا ہے اور خدا چاہے تو شاید وقت آ گیا ہے کہ اب وہ پھر زوال کی طرف رخ کر لے۔اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ شاید اس شور کا اثر ایک میرے پیارے کے دل پر نہ پڑے۔تو میں شاید اب بھی جواب کی طرف متوجہ نہ ہوتا۔مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ قوم کو ہلاکت سے بچانے کے لئے کچھ لکھنا ضروری ہے۔” میرے باپ پر جس قدر الزام لگائے گئے تھے۔یہ الزام ان کے عشر عشیر بھی نہیں۔لیکن وہ خدا کے مامور تھے اور ان سے جو خدا کے وعدے تھے وہ مجھ سے نہیں۔اس لئے میرا ان پر کڑھنا تعجب کی بات نہیں۔افسوس میں نے اپنے دوستوں سے وہ سنا۔جو یوسف نے اپنے بھائیوں سے نہ سنا تھا۔میرا دل حسرت و اندوہ کا مخزن ہے اور میں حیران ہوں کہ میں کیوں اس قدرموردعتاب ہوں۔بیشک وہ بھی ہوتے ہیں۔جو غم وراحت میں اپنی عمر