حیاتِ نور — Page 608
۶۰۳ سے گرنے کی چوٹ کی وجہ سے علیل تھے مگر کسی قدر اچھی حالت میں تھے تو ایک چھوٹے سے غالیچہ پر ایک پتلی سی رضائی یا لوئی لے کر تشریف رکھتے تھے۔پھر وہاں سے اٹھ کر اسی کمرے کی چٹائی پر ذرا دور جا بیٹھے۔پتہ نہیں کس کام کے لئے وہاں گئے اور پھر وہیں چند منٹ بیٹھے رہے اور ان کی سابقہ مسند خالی تھی اور وہ رضائی یا لوئی حلقہ باندھے مسند پر پڑی تھی جس طرح آدمی فرش پر رضائی اوڑھ کر بیٹھا ہوا ہو اور پھر رضائی کو وہیں چھوڑ کر چلا جائے تو رضائی یا لوئی کا مسند پر حلقہ سا بن جاتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ یہاں سے ابھی کوئی اٹھ کر گیا ہے۔مولوی صاحب کی نشست گاہ اسی طرح خالی پڑی تھی اور مولوی صاحب خود ذرا فاصلہ پر تشریف فرما تھے اور خواجہ کمال الدین صاحب سے باتیں کر رہے تھے اتنے میں میاں بشیر الدین محمود احمد صاحب آگئے۔تمام کمرہ میں صرف چٹائی بچھی ہوئی تھی۔صرف مولوی صاحب کی چھوٹے سے غالیچہ والی مند تھی۔مولوی صاحب نے میاں صاحب کو فرمایا کہ آپ وہاں میری جگہ پر بیٹھ جائیں۔اس وقت میاں صاحب بالکل نوعمر تھے آپ خاموش رہے اور پاس ادب کی وجہ سے مولوی صاحب کی نشست پر نہ بیٹھے۔مولوی صاحب نے پھر فرمایا اور ہاتھ سے اشارہ کر کے فرمایا کہ میاں وہاں بیٹھ جاؤ۔پھر بھی میاں صاحب نے تامل کیا۔پھر مولوی صاحب نے سہ بارہ فرمایا اور ساتھ ہی خواجہ کمال الدین صاحب نے بھی کہا کہ میاں صاحب بیٹھ جاؤ۔پھر میاں صاحب اس مسند پر بیٹھ گئے۔مولوی صاحب کے اس اصرار سے حاضرین پر خاص اثر ہوا اور انہوں نے یقین کر لیا کہ مولوی صاحب انہیں اپنا خلیفہ بنانا چاہتے ہیں“ سمی واقعہ 191 ء کا ہے۔" قادیان آنے کے فوائد محترم مولانا ظہور حسین صاحب مجاہد بخارا نے حضرت حافظ روشن علی صاحب کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ ایک مرتبہ ہمارے استاد حضرت حافظ روشن علی صاحب نے فرمایا کہ حضرت خلیفہ المسیح اول نے ایک نوٹ بک رکھی ہوئی تھی۔جس میں قادیان آنے کے کچھ فوائد درج تھے۔ایک فائدہ اس میں یہ لکھا ہوا تھا کہ قادیان آنے سے پہلے