حیاتِ نور — Page 593
ساتٍ تُور ۵۸۸ اے میرے رحیم خدا مجھے ان پر عمل کرنے کی توفیق دے۔رب اجعلنی کاسمی فرمایا۔گندے لوگ خود دیکھ پاتے ہیں۔خدا کی خدائی میں ان سے کوئی حرج واقع نہیں ہوتا۔۱۳ خواجہ کمال الدین صاحب کا سفر ولایت - منکرین خلافت میں محترم خواجہ کمال الدین صاحب اچھے لیکچرار اور قانون دان ہونے کی وجہ سے خاص طور پر مشہور تھے۔اور ان کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی تھی کہ اپنے مسلک کی تائید میں ایسے رنگ میں پرو پیگنڈہ کیا جائے۔جس سے حضرت خلیفہ اسیح الاول اور عمائدین مرکز کو اطلاع نہ ہو۔اور اگر کبھی اطلاع ہو بھی جاتی تھی تو وہ عذر معذرت کر کے بلکہ معافی مانگ کر بھی معاملہ رفع دفع کروادیتے تھے۔جن ایام کا ہم ذکر کر رہے ہیں ان ایام میں خواجہ صاحب کی اہلیہ صاحبہ کا انتقال ہو گیا۔جس سے انہیں شدید صدمہ پہنچا۔اس غم کو غلط کرنے کے لئے انہوں نے ہندوستان کا ایک لمبا دورہ کرنے کی تجویز کی۔جب یہ وفد مختلف شہروں کا دورہ کرتے کرتے بھی پہنچا تو وہاں کے ایک احمدی رئیس کو ولایت میں کوئی کام در پیش تھا۔اور وہ کسی معتبر آدمی کی تلاش میں تھے۔انہوں نے خواجہ صاحب کو اس مقصد کے لئے موزوں سمجھ کر ایک بھاری رقم کے علاوہ کرایہ وغیرہ بھی دینے کا وعدہ کیا۔چنانچہ ایڈیٹر صاحب بدر اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: اس سفر میں خواجہ صاحب کے لئے خدا تعالیٰ نے کچھ ایسے اسباب مہیا کر دیئے ہیں کہ وہ انگلینڈ تشریف لے جاتے ہیں۔" اور حضرت خلیفہ المسیح الاول نے بھی خواجہ صاحب کو ولایت جاتے ہوئے جو نصائح کیں ان میں بھی فرمایا: بقدر طاقت اپنی کے دین کی خدمت ضرور کرو“۔۱۵ مگر خواجہ صاحب چونکہ شہرت کے دلدادہ تھے۔اس لئے انہوں نے یہ مشہور کرنا شروع کر دیا کہ وہ اپنی چلتی ہوئی پریکٹس کو چھوڑ کر محض اعلائے کلمہ اسلام کے لئے ولایت جارہے ہیں۔چنانچہ انہوں نے اخبار ”زمیندار میں بھی اس قسم کا ایک اعلان کروایا۔جس سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ انہیں ولایت میں نہ کوئی سیٹھ بھیج رہا ہے نہ انجمن اور نہ کوئی غیر احمدی رئیس۔بلکہ وہ تو محض اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے اپنا کام چھوڑ کر جا رہے تھے ظاہر ہے کہ یہ اعلان نہایت ہی ہوشیاری سے کیا گیا۔کیونکہ انہیں نہ تو کسی انجمن نے بھیجا تھا نہ کسی سیٹھ یا غیر احمدی رئیس نے۔بلکہ وہ تو ایک احمدی رئیس کے کام گئے تھے۔مگر اس اعلان سے وہ یہ تاثر پیدا کرنا چاہتے تھے کہ وہ اپنے چلتے کام کو چھوڑ کر بہت بڑی قربانی کر کے محض تبلیغی