حیاتِ نور

by Other Authors

Page 588 of 831

حیاتِ نور — Page 588

۵۸۳ پڑھیں اور پھر حضرت میاں صاحب نے کلمہ شہادت اور سورہ فاتحہ پڑھ کر فرمایا: مسلمانوں میں رواج ہے کہ یہ کلمہ اور دعائیں خطبہ میں پڑھتے ہیں اور مسلمانوں کا پہلا کام یہی ہے۔اس میں خدا کے وجود کا اقرار، اس کی تو حید اور رسالت کا اقرار ہے۔اور اپنی کمزوریوں سے ڈر کر خدا کی پناہ! اور اپنے تمام کاموں میں خدا کے نام اور خدائی صفات کے جلال کے اظہار کی دعا اور توفیق دعا کے واسطے دعا ہے۔اور منعم علیہ گروہ کا راستہ اپنے لئے مانگا گیا ہے۔میرے اس سفر کے متعلق ممکن ہے۔میرے دل میں بھی امنگیں ہوں کہ میں بڑی بڑی دینی خدمات کرونگا۔اور میرے دوستوں کے دل میں بھی ایسے ہی خیالات ہیں۔مگر سب باتیں اللہ ہی کے اختیار میں ہیں۔اس کے فضل کے سوائے کچھ ہو ہی نہیں سکتا۔اس کا ایک در ہے جس کے بالمقابل سب در بیچ ہیں۔اس واسطے ہم سب کو ایک دوسرے کے واسطے دعائیں کرنی چاہئیں۔یہی کامیابی کی چابی ہے میں اپنے دوستوں اور بزرگوں کی خدمت میں بھی یہی عرض کرتا ہوں کہ سب میرے واسطے دعا کریں یہی بڑا تحفہ اور بڑی مدد ہے۔میرے دل میں مدت سے خواہش تھی کہ مکہ معظمہ جو خدا کے بڑے پیاروں کی جگہ ہے وہاں جا کر دعائیں کروں کہ مسلمان اس وقت بہت ذلیل ہورہے ہیں۔اے خدا قوم نے تجھ کو چھوڑا، نہ دین رہا نہ دنیا ہی کوئی تدبیر ان کی اصلاح کی کارگر نہیں ہوتی۔اس جگہ تو نے ابراہیم کو وعدہ دیا تھا اور اس کی دعا کو قبولیت کا شرف بخشا۔اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کو قبول کیا تھا۔آج پھر وہی دعائیں ہمارے لئے قبول فرما اور اہل اسلام کو عزت اور ترقی عطا کر۔جب ہماری دعا ئیں ایک حد تک پہنچیں گی۔تو وہ قبول ہوں گی۔میں اپنے دوستوں سے دعا ہی کی درخواست کرتا ہوں۔دشمن بڑا از بردست ہے اور ہم کمزور ! مگر ہمارا محافظ بھی بڑا زبردست ہے۔اس کے بعد حضرت خلیفہ المسیح نے ایک مختصر تقریر کی اور فرمایا: آج کل مسلمانوں نے خدا کو چھوڑا ہے۔ان میں اصلاح نہیں۔خدا نے بھی ان کو چھوڑ دیا ہے۔“ ات نور