حیاتِ نور

by Other Authors

Page 589 of 831

حیاتِ نور — Page 589

فرمایا: ۵۸۴ اس جلسہ کا مدعا اصل یہ ہے کہ دعا بہت کی جائے۔سب نے دعا کی۔سفر پر روانگی ۲۶ ستمبر ۱۹۱۲ء ۲۶ ستمبر بروز جمعرات حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب معه محترم عبد الحئی صاحب عرب حرمین شریفین ، بیت المقدس اور مصر کے لئے عازم سفر ہوئے۔اہل قادیان کی ایک بڑی جماعت بٹالہ تک ساتھ گئی۔بعض احباب امرتسر اور لاہور تک بھی مشایعت کے لئے گئے۔راستہ کے اسٹیشنوں پر بھی کثیر تعداد میں احباب ملاقات کے لئے آتے رہے اور اس طرح آپ ہزار ہا دردمند قلوب کی دعاؤں کے ساتھ اس مقدس اور اہم سفر پر روانہ ہوئے۔یہ امر خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی بمبئی تک آپ کے ساتھ مشایعت کے لئے گئے۔حضرت میر ناصر نواب صاحب کی حج کو روانگی حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب اور مولوی فاضل عبد الحی عرب کی روانگی کے بعد حضرت میر ناصر نواب صاحب بھی بارادہ حج بھی پہنچ گئے۔حضرت صاحبزادہ صاحب کا ارادہ چونکہ پہلے مصر جانے کا تھا۔اس لئے جدہ میں یہ دونوں بزرگ اکٹھے ہو گئے۔گناہ سے بچنے کے ذرائع حضرت خلیفتہ المسیح الاول نے فرمایا: میں نے کئی ایک بزرگوں سے خود دریافت کیا ہے کہ انسان گناہ سے کس طرح بچ سکتا ہے؟ مولا نا محمد قاسم صاحب نانوتوی نے فرمایا کہ انسان موت کو یاد رکھنے سے بچ جاتا ہے۔ایک میرے استاد میرے پیر تھے۔جن سے میں بیعت بھی تھا اور ان کا نام عبد الغنی تھا۔انہوں نے فرمایا کہ جو انسان ہر وقت خدا تعالیٰ کو سامنے رکھتا ہے۔وہ بچ جاتا ہے۔مرزا صاحب مسیح موعود علیہ السلام بھی میرے پیر ہی تھے۔ان سے بھی میں نے بیعت کی ہوئی تھی۔ان سے میں نے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ آدمی بہت کثرت سے استغفار کرنے سے بچ جاتا ہے۔مدت کی بات ہے ایک مرتبہ