حیاتِ نور — Page 562
۵۵۷ کر دوں گا۔لیکن ایک طبیب یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں اتنے دنوں میں مرض کو اچھا کر دوں گا۔ہاں جاہل طبیب ایسا کہہ دیتے ہیں۔لیکن جس قدر اعلیٰ درجہ کا طبیب ہو گا اسی قدر اس قسم کے دعوے سے ڈرے گا۔ہم شوقین بھی اتنے ہیں کہ چین سے بھی دوائیں منگوا لیتے ہیں۔اور محتاط بھی اس قدر ہیں کہ بعض وہ دوائیں جو بڑی محنتوں اور صرف زر کثیر کے بعد میسر ہوئیں ان کو آج تک کسی مریض پر تجربہ نہیں کیا۔صرف اس لئے کہ کوئی طبیب ایسا نہیں ملا جو ان کے متعلق کوئی اپنا ذاتی تجربہ اور طریق استعمال بیان کر سکے۔بوٹیاں اور ایسی دوائیاں جو سہل الحصول نہ ہوں ہم کبھی استعمال نہیں کرتے“۔ــور حضرت خلیفۃ السیح کا سفر لا ہور ، ۱۵ جون ۱۹۱۲ ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جناب شیخ رحمت اللہ صاحب تاجر لاہور سے ان کی درخواست پر وعدہ فرمایا تھا کہ حضور لاہور تشریف لے جا کر ان کے مکان کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔مگر حضور کا چونکہ وصال ہو چکا تھا۔اس لئے جناب شیخ صاحب موصوف قادیان میں حضرت خلیفتہ المسیح کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے میر نے ساتھ مکان کی بنیا در رکھنے کا وعدہ فرمایا تھا۔اب آپ حضور کے خلیفہ اول ہیں آپ اس وعدہ کو پورا فرما ئیں۔حضور نے باوجود بیماری کے جناب شیخ صاحب موصوف کی اس عرضداشت کو منظور فرمالیا۔اور ۱۵ جون ۱۹۱۲ء کی صبح کو عازم لاہور ہوئے۔قافلہ کے ممبران یہ تھے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب، حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب، جناب مولوی صدرالدین صاحب، حضرت خلیفہ امسیح کے اہلبیت اور صاحبزادگان اور حضرت شیخ یعقوب علی صاحب۔۱۱۸ بعض خدام جو بٹالہ ریلوے اسٹیشن پر بروقت نہیں پہنچ سکے تھے۔وہ دوسری گاڑی میں لاہور پہنچے انہیں میں حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب بھی تھے۔۱۰ بجے کے قریب حضور لاہور پہنچے۔اسٹیشن پر ایک بڑی جماعت حضور کے استقبال کے لئے موجود تھی۔لاہور میں احباب کے قیام کے لئے احمد یہ بلڈنٹس کا مقام تجویز ہو چکا تھا۔جناب شیخ رحمت اللہ صاحب نے مہمانوں کے واسطے کھانے کا انتظام بھی اسی جگہ کیا ہو ا تھا۔حضرت خلیفہ اس کا قیام جناب ڈاکٹر مرزا